فزکس نوبیل 2026: انٹارکٹیکا کی برف کائنات میں جھانکنے کی کھڑکی کیسے بنی؟

کائنات میں ایسے انتہائی طاقتور فلکیاتی عمل ہوتے ہیں جن سے نیوٹرینوز نامی نہایت چھوٹے ذرات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ذرات خلا میں طویل سفر کرکے زمین تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن انہیں پکڑنا انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ عام مادے میں سے تقریباً بغیر رکے گزر جاتے ہیں۔

یونیورسٹی آف روچسٹر کے مطابق اسی مشکل کو حل کرنے کے لیے سائنس دانوں نے ایک غیر معمولی جگہ کا انتخاب کیا، جنوبی قطب کی برف۔ انٹارکٹیکا میں قائم آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری اسی خیال پر کام کرتی ہے، جہاں برف کے اندر نصب ہزاروں سینسرز ان ذرات کے انتہائی نایاب ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی روشنی کو ریکارڈ کرتے ہیں۔

بیلجیئم نژاد امریکی ماہرِ طبیعیات فرانسس ہالزن کو 2026 کا نوبیل انعام برائے فزکس دیا گیا ہے۔ ہالزن نے اسی سائنسی منصوبے کی قیادت میں اہم کردار ادا کیا، جس کے تحت انٹارکٹیکا کی برف میں آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری قائم کی گئی اور کائناتی ذرائع سے آنے والے انتہائی زیادہ توانائی والے نیوٹرینوز کا سراغ لگایا گیا۔

رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کے مطابق ہالزن کا وژن اور سائنسی قیادت آئس کیوب کی تیاری اور کائناتی ذرائع سے آنے والے انتہائی زیادہ توانائی والے نیوٹرینوز کی دریافت میں بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔

برف میں دوربین کیسے کام کرتی ہے؟

عام دوربینیں آسمان سے آنے والی روشنی کو دیکھتی ہیں، لیکن آئس کیوب کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔ اس آبزرویٹری کو تقریباً ایک مکعب کلومیٹر صاف انٹارکٹک برف کے اندر بنایا گیا ہے۔

برف کی گہرائی میں ہزاروں روشنی کے سینسر نصب ہیں۔ جب کوئی نیوٹرینو برف کے اندر موجود کسی ایٹم سے انتہائی نایاب موقع پر ٹکراتا ہے تو اس تعامل کے نتیجے میں دوسرے ذرات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ذرات برف میں ایک مختصر سی روشنی پیدا کرتے ہیں۔

سینسر اسی معمولی روشنی کو پکڑ لیتے ہیں۔ سائنس دان ان سگنلز کا تجزیہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نیوٹرینو کس سمت سے آیا تھا۔

یہاں اصل اہمیت یہی ہے کہ نیوٹرینو اپنے ساتھ اس جگہ کی معلومات لے کر آتا ہے جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔ اس طرح سائنس دان زمین سے بہت دور موجود طاقتور کائناتی ذرائع کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

نیوٹرینوز کیا ہیں اور اتنا اہم کیوں ہیں؟

نیوٹرینوز انتہائی چھوٹے اور برقی طور پر غیر جانب دار ذرات ہیں۔ ہر سیکنڈ میں بے شمار نیوٹرینوز زمین اور ہمارے جسموں سے گزرتے ہیں، لیکن ہمیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ نیوٹرینوز عام مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں۔ یہی خصوصیت انہیں سائنس دانوں کے لیے مشکل بھی بناتی ہے اور قیمتی بھی۔

وہ خلا میں بہت طویل فاصلہ طے کرسکتے ہیں اور برقی چارج نہ ہونے کی وجہ سے مقناطیسی میدان انہیں آسانی سے راستے سے نہیں ہٹاتے۔ چنانچہ جب کسی دور دراز کائناتی مقام سے نیوٹرینو زمین تک پہنچتا ہے تو سائنس دان اس کے ذریعے اس مقام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

ہالزن کا خیال کیسے حقیقت بنا؟

فرانسس ہالزن نے 1988 میں تجویز پیش کی تھی کہ جنوبی قطب کی برف کو نیوٹرینوز کا سراغ لگانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ خیال اس لیے اہم تھا کہ جنوبی قطب کی کئی کلومیٹر گہری، صاف برف ایک بہت بڑے قدرتی ڈیٹیکٹر کے طور پر استعمال کی جاسکتی تھی۔ بالآخر اسی تصور سے آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری وجود میں آئی، جو 2011 میں مکمل ہوئی۔

آئس کیوب نے بعد میں نظامِ شمسی سے باہر آنے والے انتہائی زیادہ توانائی والے نیوٹرینوز کا سراغ لگایا۔ سائنس دانوں نے ہماری اپنی کہکشاں ملکی وے سے آنے والے نیوٹرینوز کے شواہد بھی حاصل کیے۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق ہالزن کے کام نے فلکیات کے ایک نئے انداز کی راہ ہموار کی ہے، جس میں سائنس دان صرف روشنی کے ذریعے نہیں بلکہ نیوٹرینوز کے ذریعے بھی کائنات کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔

تحقیق کا اگلا مرحلہ

آئس کیوب پر تحقیق اب بھی جاری ہے۔ 2025 اور 2026 کے دوران آبزرویٹری میں اپ گریڈ کیے گئے تاکہ نیوٹرینوز کو پکڑنے کی صلاحیت اور ان کی سمت کا تعین کرنے کی درستگی بہتر ہوسکے۔

سائنس دان آئس کیوب جین 2 کے امکان پر بھی کام کر رہے ہیں، جو موجودہ نظام سے کہیں بڑا ڈیٹیکٹر ہوسکتا ہے۔ اس سے زیادہ تعداد میں اور زیادہ توانائی والے نیوٹرینوز کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یوں فرانسس ہالزن کے کام کی اہمیت صرف ایک نئی آبزرویٹری بنانے تک محدود نہیں۔ ان کے تصور نے انٹارکٹیکا کی برف کو ایک ایسے سائنسی آلے میں تبدیل کردیا جس کے ذریعے سائنس دان کائنات کے ان حصوں سے آنے والے ذرات کا سراغ لگا سکتے ہیں جنہیں روایتی دوربینوں سے سمجھنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔

سادہ الفاظ میں، آئس کیوب آسمان کو دیکھنے والی عام دوربین نہیں بلکہ برف کے اندر چھپا ایک بہت بڑا ”نیوٹرینو ڈیٹیکٹر“ ہے جو انتہائی مشکل سے پکڑے جانے والے ذرات کے ذریعے سائنس دانوں کو کائنات کے دور دراز اور طاقتور واقعات تک پہنچنے کا نیا راستہ فراہم کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوبی قطب کی برف اب صرف ایک منجمد اور دور افتادہ خطہ نہیں رہی، بلکہ سائنس دانوں کے لیے کائنات کے انتہائی طاقتور اور پراسرار واقعات کو سمجھنے کی ایک نئی کھڑکی بن چکی ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles