یروشلم میں برطانیہ کے دو سو سال پرانے قونصلیٹ کا تنازع: معاملہ کیا ہے؟

یروشلم میں واقع تقریباً دو سو سال پرانے برطانوی قونصلیٹ کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے اب محدود پیمانے پر ’یو کے مشن‘ کے نام سے فعال رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان یہ سفارتی کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کی تجارت پر پابندی لگانے کا اعلان کیا۔

اس اقدام کے ردِعمل میں اسرائیل نے آٹھ ستمبر کو برطانیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ تیس دنوں کے اندر مشرقی یروشلم میں واقع اپنا قونصلیٹ بند کرے اور اپنے سفارت کاروں کو واپس بلائے۔

یہ مہلت جمعرات کے روز ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک درمیانی راستے پر اتفاق کیا جس کے تحت یہ قونصلیٹ اب ایک نئے نام اور محدود حجم کے ساتھ قائم رہے گا۔

مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں واقع یہ قونصلیٹ تقریباً 1839 سے قائم ہے، جب یہ علاقہ عثمانی سلطنت کا حصہ تھا اور 1948 میں اسرائیل کے وجود میں آنے سے دہائیوں پہلے کام کر رہا تھا۔

یہ قونصلیٹ یروشلم، مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطینیوں کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کو دیکھتا ہے اور انہیں خدمات فراہم کرتا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحت مشرقی یروشلم کو مقبوضہ علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے، اسی لیے دنیا کے اکثر ممالک کے سفارت خانے تل ابیب میں واقع ہیں، اگرچہ اسرائیلی وزیرِاعظم کا دفتر، صدارت اور پارلیمنٹ یروشلم میں موجود ہیں۔

یروشلم کا سفارتی درجہ ہمیشہ سے تنازع کا شکار رہا ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت اقوامِ متحدہ کی قرار داد کے تحت یروشلم کو تینوں ابراہیمی مذاہب کے لیے مقدس ہونے کی بنا پر بین الاقوامی انتظام کے تحت رکھا جانا تھا، تاہم جنگوں کے بعد اسرائیل نے 1967 میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا اور 1980 میں اسے اپنے ساتھ ملا لیا۔

اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت مانتا ہے، لیکن عالمی برادری اسے تسلیم نہیں کرتی اور فلسطینی اسے اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت دیکھتے ہیں۔

برطانیہ کے علاوہ فرانس، ترکیہ، بیلجیم، یونان، اٹلی، اسپین اور سویڈن کے بھی یروشلم میں ایسے ہی قونصلر انتظامات ہیں، تاہم اسرائیل نے صرف برطانیہ کے خلاف یہ اقدام کیا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت کے دوران 2018 میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر کے اپنے قونصلیٹ میں ضم کر دیا تھا، جسے ماضی کے امریکی صدور امن کوششوں کو بچانے کے لیے ملتوی کرتے رہے تھے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles