
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پاکستان سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک جانے والے مسافروں کی سفری مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ علاقائی صورتحال کے اثرات فضائی آپریشن پر بھی پڑ رہے ہیں، جس کے پیش نظر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے سعودی دارالحکومت ریاض کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل کردی ہیں۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتِحال کے پیش نظر ریاض کے لیے فضائی آپریشن معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایئرلائن نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال معلوم کرلیں تاکہ انہیں غیر ضروری پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ترجمان نے مسافروں کو پروازوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے پی آئی اے کے کال سینٹر یا ایئرلائن کے سرکاری ذرائع سے رابطہ کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک جانے والی پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے۔ پروازوں کی معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق جمعے کو ریاض ایئرپورٹ سے آنے اور جانے والی 104 پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ 154 پروازوں میں تاخیر ہوئی۔ اس سے ایک روز قبل، جمعرات کو بھی 335 پروازیں منسوخ کی گئی تھیں۔
رپورٹس کے مطابق خطے میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں فضائی آپریشن متاثر ہوا ہے اور مختلف پروازوں کے شیڈول میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں لہٰذا مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سفر سے پہلے متعلقہ ایئرلائن سے اپنی پرواز کی روانگی کا وقت اور موجودہ صورتِحال کی تصدیق ضرور کرلیں۔
ایئرلائن انتظامیہ کے مطابق حالات معمول پر آنے کے بعد ریاض کے لیے پروازوں کا سلسلہ دوبارہ بحال کردیا جائے گا۔
دوسری جانب، فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق ریاض اور ابہا ایئرپورٹس پر گزشتہ روز ہونے والے حملوں میں تین افراد جاں بحق جبکہ ایک پاکستانی سمیت 28 افراد زخمی ہوئے تھے۔
پروازوں کی منسوخی اور تاخیر سے متاثر ہونے والے مسافروں میں عمرہ زائرین کی بڑی تعداد بھی شامل ہے، جنہیں اپنی سفری منصوبہ بندی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مسافروں کو روانگی کے اوقات اور سفری انتظامات سے متعلق نئی معلومات حاصل کرنا پڑ رہی ہیں۔