امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے دو تہائی امیدواروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ ان امیدواروں میں خاص طور پر وہ ریاستیں شامل ہیں جہاں سخت مقابلوں کی توقع کی جارہی ہے۔ کئی امیدواروں نے اپنی ذاتی ویب سائٹس سے صدر ٹرمپ کا نام، تصاویر اور ان کے حمایتی پیغامات بھی ہٹا دیے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے تفصیلی جائزے کے مطابق، صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کے باعث ایوانِ نمائندگان (کانگریس) پر پارٹی کے کنٹرول کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر ریپبلکن امیدوار ووٹرز کو راغب کرنے کے لیے صدر کے ساتھ اپنے تعلقات کو پسِ پشت ڈال رہے ہیں۔
رائٹرز نے کانگریس کی 62 انتہائی سخت مقابلوں والی ریاستوں میں ووٹنگ ریکارڈ، عوامی بیانات اور انتخابی مواد کا جائزہ لیا، جس کے مطابق 41 ریاستوں میں ری پبلکن امیدوار صدر ٹرمپ سے واضح فاصلہ بنائے نظر آئے۔
یہ امیدوار عام طور پر ٹرمپ کے مجموعی سیاسی ایجنڈے کو مسترد کرنے کے بجائے مخصوص معاملات پر ان سے اختلاف کر رہے ہیں۔ جائزے کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد ممکنہ طور پر آزاد ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے، جب کہ وہ صدر ٹرمپ سے کھلم کھلا اختلاف سے بھی گریز کر رہے ہیں۔
ایران جنگ 12 انتخابی مقابلوں میں اختلاف کا بنیادی موضوع رہا۔ ان میں بعض ایسے ری پبلکن امیدوار بھی شامل ہیں جو ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کے حق میں ووٹ اور عوامی طور پر لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکا میں ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس سے عام گھرانوں کے اخراجات پر بھی دباؤ پڑا ہے۔
جائزے میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کم از کم ایک درجن امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کی ویب سائٹس سے صدر ٹرمپ کا نام، تصاویر اور ان کے حمایتی پیغامات بھی ہٹا دیے ہیں۔
فلوریڈا سے ڈیموکریٹ رہنما کیتھی کیسٹر کے مدمقابل ریپبلکن امیدوار مائیک بیلٹران نے اپنی ویب سائٹ کے مرکزی پیج سے صدر ٹرمپ کی تصویر ہٹا کر صرف اپنی فیملی کی تصویر لگا دی ہے۔

انٹرنیٹ آرکائیو ’وے بیک مشین‘ کے مطابق اگست میں مائیک بیلٹران کی ویب سائٹ کے مرکزی صفحے پر ٹرمپ کی تصویر موجود تھی اور اس پر لکھا تھا کہ وہ صدر کے ساتھ کھڑے ہیں۔
کچھ امیدواروں نے نسبتاً محتاط طریقہ اپنایا اور ٹرمپ کی انتخابی تقریبات میں شرکت سے گریز کیا یا پھر انتخابی مہم میں صدر کو دعوت دینے کے سوال پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والے بیشتر امیدواروں کا تعلق ان حلقوں سے ہے جن کے نتائج سے یہ طے ہوگا کہ ریپبلکن پارٹی کانگریس کے ایک یا دونوں ایوانوں میں اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔
تاہم ان میں سے کوئی بھی امیدوار صدر ٹرمپ پر براہِ راست تنقید کرتا نظر نہیں آیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ری پبلکن پارٹی پر ٹرمپ کا اثر و رسوخ برقرار ہے اور ان کے بہت سے پُرجوش حامی اب بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
صدر ٹرمپ ماضی میں ایسے قانون سازوں اور امیدواروں کے خلاف بھی سخت مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں جو ان کی مخالفت کرتے ہیں، جن میں پرائمری انتخابات میں ان کے خلاف امیدوار کھڑا کرنا، ذاتی تنقید اور پارٹی میں ان کی حمایت کے لیے دباؤ ڈالنا شامل ہے۔
امریکا میں انتخابات سے قبل غیر مقبول صدر سے فاصلہ اختیار کرنا نئی یا غیر معمولی بات نہیں۔ 2014 اور 2022 کے انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار بھی اسی طرح کی حکمت عملی اپنا چکے ہیں۔