پی ٹی آئی لانگ مارچ: جڑواں شہروں میں سیکیورٹی سخت، ریڈ زون سیل، پنجاب میں دفعہ 144 نافذ


پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد، راولپنڈی اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں، ڈی چوک کو کنٹینرز کی دیوار کھڑی کرکے سیل کردیا گیا جب کہ پنجاب بھر میں 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے تاہم آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ صوبے میں تمام چھوٹی بڑی سڑکیں کھلی ہیں اور کہیں روڈ بلاک نہیں۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے پیش نظر اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، ڈی چوک کو کنٹینرز کی دیوار کھڑی کرکے سیل کردیا گیا ہے جب کہ داخلی راستوں پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد پر بھی کنٹینرز موجود ہیں اور سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے جب کہ مختلف مقامات پر اضافی نفری تعینات کرکے انٹری پوائنٹس پر جانچ پڑتال کا عمل سخت کردیا گیا ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سیاسی کشیدگی کے دوران اٹک سے اسلام آباد تک پولیس کی نفری بدستور تعینات ہے جب کہ کنٹینرز بھی مختلف مقامات پر موجود ہیں۔
گزشتہ ماہ کے وسط سے اٹک سے اسلام آباد تک موٹروے، جی ٹی روڈ سمیت مرکزی شاہراہوں کے کناروں پر کنٹینرز موجود ہیں جب کہ اٹک پل پر مزید کنٹینرز بھی لگائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اٹک میں 20 سے 30 ہزار کے قریب پنجاب پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔
جہلم میں بڑی تعداد میں کنٹینرز روک لیے گئے
اپوزیشن اور حکومت کے مذاکرات مسلسل ناکام ہونے کے بعد جہلم جی ٹی روڈ پر بڑی تعداد میں کنٹینرز روک لیے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق کسی بھی وقت جی ٹی روڈ کو بند کیا جاسکتا ہے تاہم پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے اس وقت سڑکیں ہر قسم کی آمدورفت کے لیے کھلی ہونے کی اطلاع ہے۔

ادھر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے باعث پشاور میں میٹرک کے 7، 8، 9 اور 10 اکتوبر کو ہونے والے سالانہ امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے ہیں جب کہ کنٹرولر پشاور بورڈ کا کہنا ہے کہ ملتوی کیے گئے پرچوں کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، طلبہ نئی تاریخوں کے اعلان کا انتظار کریں۔
پنجاب بھر میں 15 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ
دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کا فوری اطلاق 6 اکتوبر سے 15 اکتوبر تک ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر 5 یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھ پر پابندی ہوگی۔ عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے جب کہ غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کے لیے اکسانے یا ترغیب دینے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔
محکمہ داخلہ کے مطابق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہیں دفعہ 144 سے مستثنیٰ ہوں گی۔ عدالتیں، حکومتی ادارے اور باضابطہ اجازت سے ہونے والی تقریبات بھی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی جب کہ ڈیوٹی پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر بھی دفعہ 144 کا اطلاق نہیں ہوگا۔

محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق عوامی امن، سکون اور جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس میں عوامی اجتماعات کو ممکنہ ہدف بنائے جانے کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں، جبکہ ریلیوں، جلسوں، دھرنوں، جلوسوں اور مظاہروں کو ممکنہ آسان ہدف قرار دیا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب کا سڑکیں کھلی ہونے کا دعویٰ
ادھر آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم نے لاہور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں امن ہے اور لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں، صوبے میں چھوٹی بڑی تمام سڑکیں کھلی ہیں اور کہیں بھی کوئی روڈ بلاک نہیں ہے۔
آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ ناقص کارکردگی میں جو بھی ملوث ہوگا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، کارروائی قانون اور متعلقہ رولز کے مطابق ہوگی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles