
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس میں واقع فوجی اڈے ’فورٹ ہُڈ‘ میں فائرنگ کرکے 13 افراد کو ہلاک کرنے والے سابق امریکی فوجی ندال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ جنگ (پینٹاگون) کے مطابق اس سزائے موت کی حتمی منظوری امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی سفارش پر دی گئی ہے۔ سزا پر عمل درآمد کی صورت میں یہ گزشتہ 65 سالوں میں کسی امریکی فوجی کو پہلی سزائے موت ہوگی۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کے سابق میجر ندال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کی منظوری دے دی ہے۔
ترجمان کے مطابق ندال حسن نے 2009 میں امریکی فوجی اڈے میں تعیناتی کے دوران فائرنگ کر کے 12 حاضر سروس اور ایک ریٹائرڈ فوجی اہلکار کو ہلاک کیا تھا جب کہ اس حملے میں 32 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
پینٹاگون کے مطابق اس سزائے موت پر عمل درآمد کا وقت اور مقام سیکریٹری آرمی طے کریں گے۔
ندال حسن کو امریکی فوجی عدالت نے اگست 2013 میں 45 مقدمات میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ وہ امریکی فوج میں بحیثیت ماہرِ نفسیات وابستہ تھے۔ یہ واقعہ 2009 میں اُس وقت پیش آیا تھا جب انہیں چند ہفتوں بعد افغانستان تعینات کیا جانا تھا۔
تفتیش کے دوران ندال حسن نے اس حملے کو ’مسلم دنیا میں امریکی جنگوں کا انتقام‘ قرار دیا تھا۔ گرفتاری کے وقت جوابی فائرنگ سے وہ جزوی طور پر مفلوج ہوگئے تھے اس وقت 56 برس کی عمر میں بھی وہیل چیئر پر ہیں۔
فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کیوں؟
امریکا میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت ان متعدد طریقوں میں شامل ہے جنہیں حالیہ مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ نے سنگین ترین جرائم کے لیے سزائے موت کے قابلِ عمل طریقوں میں شامل کیا ہے۔ ان میں بجلی کا کرنٹ دینے اور گیس کے ذریعے دم گھٹنے سے موت جیسے طریقے بھی شامل ہیں۔
وفاقی سطح پر سزائے موت کے طریقوں میں اضافے کی ایک وجہ مہلک انجیکشن میں استعمال ہونے والی ادویات کے حصول میں بڑھتی مشکلات بھی بتائی گئی ہیں۔
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ریاست ٹینیسی میں 200 سال سے زائد عرصے بعد پہلی مرتبہ کرسٹا پائیک نامی خاتون قیدی کو سزائے موت دینے کی کوشش ناکام ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جیل کا عملہ درست نَس تلاش کرنے میں ناکام رہا تھا۔ کرسٹا پائیک اس وقت اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اس واقعے سے قبل ان کے وکلاء نے بھی فائرنگ اسکواڈ یا پھانسی جیسے متبادل طریقوں پر زور دیا تھا۔
1961 کے بعد کسی فوجی کو سزائے موت
امریکا میں فوجی اہلکاروں کو سزائے موت کے واقعات انتہائی کم دیکھنے میں آئے ہیں۔ امریکی فوجی قوانین کے مطابق فوجی عدالت سے سنائی جانے والی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے صدر کی منظوری لازمی ہے۔
سزائے موت کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ’ڈیتھ پینلٹی ایکشن‘ کے مطابق ندال حسن کی سزائے موت پر عمل درآمد کی صورت میں یہ 1961 کے بعد کسی فوجی کو پہلی سزائے موت ہوگی۔
تنظیم ’ڈیتھ پینلٹی ایکشن‘ نے صدر ٹرمپ کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سزائے موت کی منظوری ڈونلڈ ٹرمپ کے پسندیدہ ترین اختیارات استعمال میں سے ایک ہے‘۔
امریکا میں سزائے موت سے متعلق ڈیٹا پر قیدیوں، پھانسیوں کی تعداد، قانون سازی اور عدالتی فیصلوں پر نظر رکھنے والی ایک اور تنظیم ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کے مطابق امریکا کی کم از کم پانچ ریاستوں کے قوانین میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کی گنجائش موجود ہے۔ 2025 میں ریاست ساؤتھ کیرولائنا میں سزائے موت کے قیدیوں کو اسی طریقے سے سزائے موت دی جاچکی ہے۔