
اسرائیل نے دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز 1073 کو ممکنہ طور پر مار گرانے کے لیے لڑاکا طیارے روانہ کر دیے تھے، تاہم پرواز کا رخ سعودی عرب کی جانب ہونے کی تصدیق کے بعد اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو واپس بلا لیا گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز 1073 میں دورانِ پرواز ایک عمانی معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کیا تھا، جس کے بعد طیارہ اچانک تیزی سے نیچے آنے لگا تھا۔
رپورٹ کے مطابق طیارے کی غیر معمولی صورتِ حال کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے کاک پٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم وہاں سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ صورتِ حال کو ممکنہ نائن الیون طرز کے حملے کے خدشے کے تناظر میں دیکھا گیا تھا۔
اسرائیلی ذرائع نے بتایا کہ طیارے کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے موجود ہنگامی طریقۂ کار کے تحت فوری طور پر ایک کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، جبکہ کمانڈ سینٹر قائم کرکے لڑاکا طیارے بھی روانہ کیے گئے۔ اسرائیل نے احتیاطی اقدام کے طور پر اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعد ازاں طیارے کا رخ سعودی عرب کی جانب ہونے کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد اسرائیلی لڑاکا طیاروں کو واپس بلا لیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے بھی صورتِ حال کے دوران اپنے لڑاکا طیارے روانہ کیے تھے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق واقعے کے دوران اسرائیلی حکام نے طیارے کی نقل و حرکت اور اس سے لاحق ممکنہ خطرے کا مسلسل جائزہ لیا۔
تاہم رپورٹ میں طیارے کو مار گرانے کا فیصلہ کیے جانے سے قبل ہی اسے واپس بلائے جانے کی وجہ طیارے کے سعودی عرب کی جانب رخ کرنے کو قرار دیا گیا ہے۔
واقعے سے متعلق مزید تفصیلات اور فلائی دبئی یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ مؤقف سامنے آنے کی صورت میں صورتِ حال مزید واضح ہو سکے گی۔
یاد رہے کہ فلائی دبئی کا یہ واقعہ 30 ستمبر کو پیش آیا تھا جب دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائٹ ایف زی-1073 پر معاون پائلٹ ہمام الہمامی نے کاک پٹ میں موجود کپتان سُمت مچھار پر ایمرجنسی کریش کلہاڑی سے حملہ کر دیا تھا۔
اس حملے کے باعث طیارہ دو منٹ کے اندر ہزاروں فٹ نیچے چلا گیا اور طیارے میں سوار 176 مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
شدید زخمی اور خون میں لت پت ہونے کے باوجود کپتان نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا، جس کے بعد مسافر اور دیگر عملہ فوراً اندر داخل ہوئے اور انہوں نے ملزم معاون پائلٹ کو قابو کر لیا تھا۔
پرواز میں موجود ایک اور متبادل پائلٹ کی ٹیم نے جہاز کا کنٹرول سنبھالا اور اسے سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر محفوظ طریقے سے لینڈ کرا دیا، جس سے ایک بڑا فضائی حادثہ ٹل گیا۔