
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث یورپ کو تیل کی ترسیل کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔ نیتن یاہو نے اسرائیل کی ایک پائپ لائن کو متبادل زمینی راہداری کے طور پر پیش کیا ہے، جو تقریباً چھ دہائی قبل ایران اور اسرائیل کے مشترکہ منصوبے کے تحت تعمیر کی گئی تھی۔
امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز کو بدھ کے روز دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت ختم ہوجائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مستقبل میں آبنائے ہرمز ایران کے لیے دنیا پر دباؤ کا ذریعہ نہیں رہے گی، ہم اس رکاوٹ کو ختم کر سکتے ہیں اور ہم ایسا ہی کریں گے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ توانائی کی ترسیل کے لیے خطے میں پہلے سے موجود پائپ لائنز کو مربوط کیا جائے تو ایک متبادل زمینی راستہ بن سکتا ہے، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی بحیرۂ احمر سے اسرائیل کے راستے بحیرۂ روم منتقلی آسان ہوسکتی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے یہ منصوبہ ایسے موقع پر پیش کیا ہے کہ جب آبنائے ہرمز کے بعد بحیرہ احمر میں بھی بحری جہازوں اور سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے جاری ہیں۔
نیتن یاہو نے اپنے انٹرویو میں ایک ایسی پائپ لائن کا ذکر کیا جو اسرائیل اور ایران نے 1968 میں بنائی تھی۔ اس پائپ لائن کو ’ٹرانس اسرائیل پائپ لائن‘ کہا جاتا ہے جو تقریباً 254 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ پائپ لائن بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اسرائیل کے شہر ایلات سے بحیرہ روم کے ساحل پر واقع شہر ایشکلون تک پھیلی ہوئی ہے اور اب اسے ’یورپ ایشیا پائپ لائن‘ بھی کہا جاتا ہے۔
اس پائپ لائن کے ذریعے ایران کے بڑے سپر ٹینکر اسرائیل کی ایلات بندرگاہ پر خام تیل اتارتے، جہاں سے 42 انچ قطر کی پائپ لائن کے ذریعے تیل ایشکلون منتقل کیا جاتا اور پھر چھوٹے بحری جہازوں کے ذریعے زیادہ تر یورپ بھیجا جاتا تھا۔
ایران اور اسرائیل کا یہ مشترکہ منصوبہ اس دور میں شروع ہوا تھا جب تہران میں شاہ محمد رضا پہلوی کی حکومت تھی اور ایران کے اسرائیل سے تعلقات دوستانہ تھے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مصر کی نہر سوئز پر انحصار کم کرنا تھا۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی نے ’ٹرانس اسرائیل پائپ لائن‘ سے متعلق جمعرات کو ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ جس میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی ایک دستاویز کا بھی ذکر ہے۔ اس دستاویز کے مطابق 70 کی دہائی میں اسرائیل کا پائپ لائن منصوبہ اتنا اہم سمجھا جاتا تھا کہ اس کا ذکر امریکی صدر کی روزانہ کی خفیہ بریفنگ میں ہوتا تھا۔
ابتدائی مرحلے میں اس پائپ لائن کے ذریعے سالانہ تقریباً دو کروڑ ٹن خام تیل ترسیل کرنے کی گنجائش موجود تھی، جسے 1970 کی دہائی کے وسط تک پانچ سے چھ کروڑ ٹن سالانہ تک لے جانے کا منصوبہ بھی زیر غور تھا۔ 1979 میں انقلابِ ایران کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوئے تو ایران نے پائپ لائن کے ذریعے تیل کی سپلائی فوری طور پر روک روک دی۔
جواب میں اسرائیل نے اس منصوبے کو یکطرفہ طور پر اپنے کنٹرول میں لے کر اپنی ریاستی ملکیت قرار دے دیا۔ بعد ازاں ایران نے اپنے حصے کی 50 فیصد سرمایہ کاری واپس حاصل کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ کی ثالثی عدالت میں کیس بھی دائر کیا تھا۔ عدالت نے ایران کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اسرائیل کو 1.1 ارب ڈالر ایران کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم اسرائیل نے اس فیصلے کو آج تک تسلیم نہیں کیا ہے۔
آج یہ پائپ لائن اسرائیل کے آئل اسٹوریج ڈپوز اور بحری ٹرمینلز کا انتظام سنبھالنے والے ادارے ’یورپ ایشیا پائپ لائن کمپنی‘ کے زیرِ انتظام اور اسرائیل کا خفیہ اور حساس ترین سرکاری اثاثہ مانی جاتی ہے۔ اگرچہ اب اس پائپ لائن کے ذریعے ایرانی تیل منتقل نہیں ہوتا لیکن یہ کمپنی اسرائیل میں تیل کی اسٹوریج اور ڈسٹری بیوشن کا بڑا حب بن چکی ہے جہاں عالمی کمپنیاں اپنا تیل کرائے پر محفوظ رکھتی ہیں۔
اسرائیل کی تجویز کیا ہے؟
اسرائیل اب ’ایشیا یورپ پائپ لائن‘ کو ایک نئے علاقائی توانائی منصوبے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اسرائیلی توانائی کے وزیر ایلی کوہن نے جولائی 2026 میں امریکا کے سامنے ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت تقریباً 700 کلومیٹر طویل نئی پائپ لائن کے ذریعے سعودی عرب کو اسرائیل کے شہر ایلات سے جوڑا جا سکتا ہے۔
ایلی کوہن کی اس تجویز کا مقصد امریکا کی مدد سے خلیجی ممالک کو آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرکے اسرائیل کے راستے تیل یورپ پہنچانے کے لیے آمادہ کرنا ہے۔
سعودی عرب میں ’ایسٹ ویسٹ پیٹرولائن‘ نامی 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائنوں موجود ہے جو سعودی عرب کے مشرقی صوبے سے خام تیل کو مغربی ساحل پر واقع ینبع کی بندرگاہ تک پہنچاتی ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق اسرائیل میں مقیم اوپن سورس انٹیلی جنس تجزیہ کار جے لیٹنی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پائپ لائن کی اردن کے راستے سعودی عرب کی پائپ لائن تک توسیع صرف زبانی بحث نہیں بلکہ اسرائیلی حلقوں میں اس منصوبے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ منصوبہ 2020 میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ناکام مفاہمتی منصوبے کے بعد اسرائیل کی جانب سے سرکاری سطح پر کی جانے والی سنجیدہ ترین کوشش ہے۔‘
اس منصوبے کے تحت اسرائیل اردن کے راستے خلیجی ممالک کا تیل یورپ پہنچانے کے ارادہ رکھتا ہے۔ فی الحال اسرائیلی پائپ لائن صرف سعودی عرب کی ہی یومیہ خام تیل کی برآمدات کا 5 سے 15 فیصد ہی سنبھالنے کی سکت رکھتی ہے، یعنی موجودہ حالات میں یہ اسرائیلی پائپ لائن کو بحری راستوں کا متبادل نہیں بلکہ صرف ہنگامی راستہ ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فی الحال آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر پائپ لائن نیٹ ورکس کے منصوبے کی کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
اسرائیل اگرچہ خود کو مستقبل کا توانائی مرکز بنانا چاہتا ہے تاہم غزہ جنگ کے بعد یہ منصوبہ کئی وجوبات کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ سعودی عرب سمیت بعض خلیجی ممالک کا اسرائیل کو تسلیم نہ کیا جانا ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ اسرائیل کے مسلم ممالک خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے سرگرم ہیں اور حال ہی میں انہوں نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے سول جوہری معاہدے کی منظوری کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کیا ہے۔ البتہ سعودی عرب بارہا واضح کرچکا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔