
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی جانب سے اردن کے الازرق فضائی اڈے پر کیے گئے بیلسٹک میزائل حملے میں امریکی فضائیہ کے تین ایف-35 لڑاکا طیارے تباہ جب کہ مزید تین کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایران کے مطابق حملے میں متعدد امریکی فوجی افسران اور تکنیکی عملہ بھی ہلاک ہوا، تاہم امریکا نے ان دعوؤں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اردن کے الازرق فضائی اڈے کو متعدد بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی جزیرہ قشم پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی، جس میں ایک ہی خاندان کے تین افراد، جن میں میاں، بیوی اور ان کا بچہ شامل تھا، جان سے گئے۔
قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ نے پاسدارانِ انقلاب کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حملے کا ہدف الازرق ایئربیس پر موجود ریمپ اور مرمت کا شیڈ تھا، جہاں امریکی ایف-35 لڑاکا طیارے تعینات تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملے کے نتیجے میں تین ایف-35 طیارے مکمل طور پر تباہ جب کہ مزید تین کو شدید نقصان پہنچا۔
پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملے میں متعدد امریکی فوجی افسران، تکنیکی ماہرین اور دیکھ بھال کرنے والا عملہ ہلاک ہوا۔ بیان میں کہا گیا کہ خطہ امریکی فوج کی موجودگی کا متحمل نہیں ہوسکتا اور امریکی افواج کے انخلا تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
’رائٹرز‘ کے مطابق ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جب کہ امریکی حکام نے بھی اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا۔
اردن کا الازرق فضائی اڈہ امریکی فضائیہ کے 332ویں ایئر ایکسپیڈیشنری ونگ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اسی ماہ کے آغاز میں بھی ایران اس اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کر چکا ہے۔
قبل ازیں، ایران کے جزیرۂ قشم میں امریکی فضائی حملے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ملبے سے ایک اور بچے کو زندہ نکال لیا گیا ہے، جب کہ ریسکیو ٹیمیں اب بھی لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والی رہائشی عمارت میں ایک ہی خاندان کے افراد رہائش پذیر تھے۔
ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے مطابق امریکی حملے میں ایک میاں بیوی اور ان کا دو سالہ بچہ جاں بحق ہوا، جب کہ 7 اور 9 سال عمر کے دو زخمی بچوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ایران نے قشم میں شہری ہلاکتوں کو امریکی کارروائی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس حملے کو اپنے جوابی اقدامات کی ایک وجہ بتایا ہے، جب کہ خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث صورتِ حال بدستور انتہائی تناؤ کا شکار ہے۔