دلہن کا میک اپ، منگنی میں انگوٹھی کی رسم حرام ہے: افغان طالبان کی شادی بیاہ سے متعلق نئی ہدایات

افغانستان میں طالبان حکومت نے شادی بیاہ کی تقریبات سے متعلق نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے برسوں سے رائج مختلف رسومات کو غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دیا ہے۔ ان رسومات میں دلہن کے میک اپ، خواتین کے پرفیوم کے استعمال، منگنی میں انگوٹھیوں کے تبادلے، موسیقی، رقص اور آتش بازی سمیت متعدد رسومات شامل ہیں۔

افغان طالبان حکومت کی وزارتِ حج و اوقاف نے حال ہی میں مساجد کے آئمہ اور خطیبوں کے لیے 10 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کی ہے جسے جمعہ کے خطبات میں عوام تک پہنچانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ملک بھر کی مساجد کے علما کو ہدایت کی ہے کہ وہ جمعے کے خطبے میں شادی سے قبل اور بعد کی ایسی رسومات کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جنہیں اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا گیا ہے۔

افغان طالبان کی جانب سے جاری کی گئی 10 صفحات پر مشتمل دستاویز کے مطابق شادی اور منگنی سمیت دیگر تقریبات میں دلہن کا میک اپ، مصنوعی بال لگوانا اور خواتین کی جانب سے پرفیوم کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہے۔

افغان طالبان حکومت کی نئی ہدایات میں خواتین کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت پرفیوم لگانے کو مذہبی اعتبار سے ناجائز قرار دیا گیا ہے جب کہ شادی یا منگنی کے موقع پر دلہا اور دلہن کے درمیان انگوٹھیوں کے تبادلے اور ایک دوسرے کے ہاتھوں پر مہندی لگانے کی رسم کو بھی غیر اسلامی عمل قرار دیا گیا ہے۔

افغان نیوز ایجنسی ’اطلس پریس‘ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے شادیوں اور منگنی کی تقریبات میں موسیقی پر پہلے سے پابندی عائد ہے، جب کہ مختلف مواقع پر ایسی تقریبات کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے ملک بھر کے آئمہ اور خطیبوں کے لیے جاری ہدایات میں اس پابندی کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مرد و خواتین کا مخلوط رقص سنگین ترین بے راہ رویوں میں سے ایک ہے، عوام کو شادی یا منگنی کی تقریبات میں موسیقی اور رقص سے گریز کرنا چاہئے۔

دستاویز میں شادی بیاہ اور خوشی کے مواقع پر آتش بازی کی رسم کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اس سے باز رہنے کی تنبیہہ کی گئی ہے اور اس عمل کو پڑوسیوں سمیت دوسرے مسلمانوں کے لیے اذیت اور تکلیف کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

طالبان حکومت نے ملک بھر کے آئمہ کرام اور خطیبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جمعہ کے خطبات اور دیگر مذہبی اجتماعات میں ان ہدایات کی وضاحت کریں اور عوام کو شادی بیاہ کی تقریبات کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سادہ اور غیر نمائشی انداز میں منعقد کرنے کی تلقین کریں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles