کورونا کے پھیلاؤ پر سوال؛ امریکی سائنس دان نے خاموش رہنے کے لیے کون سے قانون کا سہارا لیا؟

امریکا کے سابق اعلیٰ ترین طبی مشیر اور 38 سال تک قومی ادارہ برائے اینٹی باڈیز و متعدی بیماریاں کے ڈائریکٹر رہنے والے 85 سالہ ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے کورونا وبا کے آغاز اور اس سے نمٹنے کے اقدامات پر امریکی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے سوالات کے جوابات دینے سے انکار کر دیا ہے۔

بدھ کے روز ہونے والی اس سماعت کے دوران انہوں نے پانچویں آئینی ترمیم کا سہارا لیتے ہوئے خاموشی اختیار کی، جو کسی بھی امریکی شہری کو گواہی نہ دینے اور ممکنہ قانونی کارروائی سے بچنے کا آئینی حق فراہم کرتی ہے۔

اس سماعت کی صدارت ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال کر رہے تھے جو فاؤچی پر کانگریس کو گمراہ کرنے اور چین کی ووہان لیبارٹری میں امریکی فنڈنگ سے ہونے والی تحقیق کے ذریعے وبا کے پھیلاؤ کا باعث بننے کا الزام عائد کرتے ہیں، جبکہ فاؤچی ان تمام الزامات کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔

تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کشیدہ سماعت کے دوران فاؤچی نے ابتدائی بیان کے بعد 100 سے زائد سوالات کے جوابات دینے سے انکار کیا اور سینیٹر رینڈ پال پر الزام لگایا کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔

سماعت کے دوران صورتحال اس وقت مزید تلخ ہو گئی جب سینیٹر رینڈ پال نے کیپٹل پولیس کو ہدایت کر کے فاؤچی کے وکیل ڈیوڈ شرٹلر کو ہال سے باہر نکال دیا۔

سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ ”یہ گواہی اینتھونی فاؤچی کی طرف سے ہے اور اس میں ان کے وکلاء کا کوئی کردار نہیں ہے“۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے فاؤچی کے وکیل نے بعد میں اس پوری سماعت کو ایک ضد اور ذاتی انتقامی کارروائی قرار دیا۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک سینیٹر گیری پیٹرز نے فاؤچی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ سماعت ایک سیاسی عمل ہے جسے پہلے سے طے شدہ نتائج حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے“۔

سماعت کے اختتام پر سینیٹر رینڈ پال نے کہا کہ ”کیا فاؤچی کے اقدامات تاریخ کی سب سے بڑی انسان ساختہ وبا کا باعث بنے؟“ اور اعلان کیا کہ فاؤچی کے اس تعاون نہ کرنے پر آئندہ ہفتے ان کی توہینِ کانگریس کی تحریک پر ووٹنگ کرائی جائے گی۔

قانونی نقطہ نظر سے اگرچہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے 2025 میں اپنے عہدے کی مدت ختم ہونے سے قبل فاؤچی کو 2014 سے لے کر اس وقت تک کے تمام سابقہ اقدامات پر پیشگی صدارتی معافی دے دی تھی، لیکن وکلاء کا ماننا ہے کہ اگر فاؤچی حلف کے تحت سینیٹ میں کوئی نیا بیان دیتے تو ریپبلکنز ان پر جھوٹی گواہی کا نیا مقدمہ چلا سکتے تھے۔

فاؤچی کے مطابق انہوں نے اپنے وکلاء کے مشورے پر ہی خاموشی کا راستہ منتخب کیا تاکہ وہ کسی نئے قانونی خطرے میں نہ پڑیں۔

امریکا میں پانچویں آئینی ترمیم کا استعمال محض ایک قانونی حق ہے اور اس کا مطلب جرم کا اعتراف ہرگز نہیں ہوتا، تاہم ریپبلکنز کا موقف ہے کہ صدارتی معافی کے بعد فاؤچی کو ماضی کے واقعات پر یہ حق استعمال نہیں کرنا چاہیے، جس کا حتمی فیصلہ اب عدالتوں کو کرنا پڑ سکتا ہے۔

جہاں تک کورونا وائرس کے اصل ماخذ کا تعلق ہے تو اکثر سائنس دانوں کا اب بھی یہی ماننا ہے کہ یہ وائرس قدرتی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا اور ووہان کی مچھلی مارکیٹ اس کا بنیادی مرکز تھی۔

فاؤچی کے ڈائری کے 1100 سے زائد صفحات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وبا کے آغاز میں سائنس دانوں کے درمیان اس کے ماخذ کے بارے میں مختلف آراء موجود تھیں۔

اس وقت امریکی انٹیلی جنس ادارے بھی اس معاملے پر تقسیم ہیں۔ سال 2023 میں ایف بی آئی اور 2025 میں سی آئی اے نے اس بات کا امکان ظاہر کیا تھا کہ ہوسکتا ہے وائرس لیبارٹری سے لیک ہوا ہو، تاہم بیشتر دیگر امریکی تحقیقاتی ادارے اور سائنس دان اب بھی اس کے قدرتی طور پر پھیلنے کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles