
سعودی عرب بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثی حملوں کے بڑھتے خطرات کے بعد ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ عالمی بحری تجارت کو محفوظ بنایا جا سکے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا کہ اتحاد میں شامل ہونے والے ممالک کی حتمی فہرست ابھی طے نہیں ہوئی، تاہم اس حوالے سے درجنوں ممالک سے مشاورت جاری ہے۔
بحیرہ احمر میں بڑھتی کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں بھی تجارتی راستے غیر محفوظ ہوئے تو دنیا بھر میں توانائی اور دیگر اشیا کی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
20 جولائی کو یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ حوثیوں کا کہنا تھا کہ سعودی قیادت تقریباً 12 برس سے یمن پر ”غیر منصفانہ اور ظالمانہ محاصرہ“ مسلط کیے ہوئے ہے، ملک کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں اور یمن کا مکمل محاصرہ کیا گیا ہے۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ ناکہ بندی کے اعلان کے بعد انہوں نے بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ اس کے جواب میں سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ حدیدہ میں ان مقامات پر فضائی حملے کیے جنہیں اس نے حوثیوں کی فوجی تنصیبات قرار دیا۔ سعودی حکام کا مؤقف ہے کہ ان تنصیبات سے تجارتی جہازوں کو خطرات لاحق کیے جا رہے تھے۔
رائٹرز کے مطابق سعودی سینٹر فار انٹرنیشنل کمیونیکیشن سے اس معاملے پر مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم ادارے نے کوئی جواب نہیں دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ احمر میں پیدا ہونے والی نئی صورت حال نے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی ایک نیا محاذ کھول دیا ہے، کیوں کہ اس سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں تیل اور دیگر سامان لے جانے والے بحری جہاز بھی خطرات کی زد میں آ گئے ہیں، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی صحافی وکٹوریہ گیٹنبی کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک امریکا اور ایران کے تنازع کے دوران مسلسل اس بات کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ وہ اس جنگ کو اپنی جنگ نہیں سمجھتے اور کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ اس تنازع میں گھسیٹے نہیں جانا چاہتے۔
دوسری جانب سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کو قطر، کویت اور بحرین کے وزرائے خارجہ کی فون کالز موصول ہوئیں۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ان رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزارت کے مطابق تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایران اور ”اس سے وابستہ عراق اور یمن کی ملیشیاؤں“ کے حملوں کی مذمت بھی کی اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے پلیٹ فارم کے ذریعے باہمی تعاون اور مشترکہ اقدامات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
ادھر یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے ایک وزیر نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کی رہنمائی میں بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔
یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے کہا کہ یہ ایک خطرناک پیش رفت ہے جس کا مقصد دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک کو ملیشیا کی فوجی اور دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے مستقل مالی ذریعہ بنانا ہے۔
تاحال حوثیوں کی جانب سے یمنی وزیر اطلاعات کے اس الزام پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں۔