امریکا کے ایران پر دوبارہ فضائی حملے، بحری ناکہ بندی بھی سخت کر دی

امریکا نے ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کرتے ہوئے فضائی حملوں کے ساتھ بحری ناکہ بندی بھی سخت کر دی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید بڑے حملوں کی دھمکی دے دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج پر حملوں کے جواب میں ایران کے اندر موجود اہداف کے خلاف کارروائی امریکی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے شروع کی گئی۔

امریکی میڈیا کے مطابق مختلف اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاہم جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے جنوبی علاقوں اور قشم جزیرے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے صوبہ ہرمزگان کے ڈپٹی گورنر احمد نفیسی کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ قشم جزیرے کے چاہ تنگو محلے میں ایک رہائشی مکان امریکی حملے کی زد میں آیا، جہاں ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم اور پریس ٹی وی نے بھی رہائشی علاقے پر حملے کی اطلاع دی، جبکہ تسنیم کے مطابق قشم شہر میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

ادھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے خلاف آئندہ حکمتِ عملی پر امریکی فوجی قیادت میں اختلافات موجود ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر دو ہفتوں تک شدید بمباری کے حامی ہیں، جبکہ جنرل کین اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ فضائی دفاعی وسائل اور ایئر ڈیفنس اسٹاک محفوظ رکھنے کے حق میں ہیں۔

اُدھر امریکا نے ایران کی بحری ناکہ بندی بھی مزید سخت کر دی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق اب تک 20 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ اس ماہ بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ ہونے کے بعد گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید دو جہاز واپس بھیجے گئے اور دو تجارتی جہازوں کی تلاشی بھی لی گئی۔

امریکی حملوں سے قبل برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبرے نے دعویٰ کیا تھا کہ مصر کی بحیرہ روم کی بندرگاہ دمیاط میں امریکی ملکیت کے گیس ذخیرہ کرنے والے ایک ٹینکر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم مصر کی وزارتِ پیٹرولیم نے صرف بندرگاہ پر آگ لگنے کی تصدیق کی اور ڈرون حملے کا کوئی ذکر نہیں کیا، جبکہ واقعے کی ذمہ داری بھی فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی۔

اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا، ”ہم ان پر بھرپور حملہ کریں گے، انہیں بری طرح مار پڑے گی۔“ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے تمام میزائل کامیابی سے تباہ کر دیے اور کارروائی عراقی حکومت سے اہم آہنگی کے تحت کی گئی۔ انہوں نے ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کو دنیا کے لیے ناسور قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ ان گروہوں کے خلاف مزید اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے۔

دوسری جانب ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ عمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کا مشترکہ انتظام سنبھالنے کی تجویز بھی مسترد کر دی۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔

امریکا کی تازہ فضائی کارروائیوں، بحری ناکہ بندی میں سختی، ایران کے جوابی اقدامات اور صدر ٹرمپ کے بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کی آئندہ حکمتِ عملی پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles