
حکومت نے 30 جولائی کے لیے پیٹرول کی قیمت 335 روپے 6 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 390 روپے 62 پیسے فی لیٹر مقرر کی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 75 پیسے فی لیٹر سستا جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 2 روپے 24 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ کی بنیاد پر تعین کرنے کے فیصلہ کے بعد سے اب تک پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں متعدد بار ردوبدل دیکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو 20 جولائی سے لے کر 30 جولائی کے عرصے میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر تین بار کمی کی گئی ہے جبکہ چار بار اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں کا گراف زیادہ تر اوپر ہی رہا، اس دوران ڈیزل کی قیمت میں چھ بار اضافہ کیا گیا اور ایک بار بھی کمی نہیں ہوئی۔
قیمتوں کے اس مسلسل ردوبدل اور اتار چڑھاؤ کا سلسلہ 20 جولائی سے نمایاں نظر آیا، جب پیٹرول میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی لیکن اسی دن ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 71 پیسے مہنگا کر دیا گیا۔ اس کے بعد 21، 22، 23 اور 24 جولائی کو مسلسل چار دن تک پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں پے در پے اضافے کیے گئے۔
25 جولائی کو حکومت نے دونوں ایندھن کی قیمتیں برقرار رکھیں، تاہم 28 جولائی کو ایک بار پھر پیٹرول میں ایک روپے کی معمولی کمی کی گئی جبکہ ڈیزل کی قیمت 3 روپے 37 پیسے مزید بڑھا دی گئی۔
حکومتی نوٹیفکیشن اور معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس تیزی سے ہوتے اضافے اور اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید عسکری و سیاسی کشیدگی ہے۔
اس جنگی صورتحال کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل شدید اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، اور روزانہ کی بنیاد پر درآمدی لاگت کو مقامی قیمتوں میں شامل کیے جانے کی وجہ سے عوام تک ان فیصلوں کا براہ راست اثر پہنچ رہا ہے۔