ایران، امریکا کشیدگی میں کمی کی نئی کوشش، ثالث ممالک نے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز دے دی

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں۔ ثالث ممالک نے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے، جب کہ ایران اور پاکستان کے درمیان بھی اعلیٰ سطح پر سفارتی رابطے جاری ہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی لانے کے لیے ثالث ممالک نے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز دے دی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اس تجویز کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان عبوری معاہدے کو دوبارہ فعال کرنا اور کشیدگی میں کمی لانا ہے۔

رائٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں 60 روزہ جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، حتمی معاہدے کے لیے ٹائم فریم طے کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جامع مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

قبل ازیں ایرانی وزارت خارجہ نے بھی بتایا کہ امریکا کی جانب سے حملوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے جاری ہیں اور امریکا کےساتھ مذاکرات قومی مفادات کی بنیاد پر ہی کیے جا سکتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ایران کو ثالثوں کے ذریعے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ثالثوں کے ذریعے  پیغامات موصول ہوئے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں سفارتی نظام متحرک رہا ہے اور کچھ ثالثوں کی جانب سے ہمیں مختلف تجاویز پہنچائی گئی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے خطے میں جاری حالیہ تناؤ اور جنگی صورتِ حال کی تمام تر ذمہ داری امریکا پر عائد کی۔ خطے کے دیگر ممالک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں رکھنا چاہتا۔ ہم ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں گے اور اپنی سرزمین سے ایران پر حملوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

ادھر ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی آج اسلام آباد پہنچیں گے، جہاں ان کی پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں دوطرفہ تعاون، سرحدی سلامتی اور خطے کی موجودہ صورتِ حال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے پاکستان کے نئے سفیر عمران صدیقی نے ملاقات کی، جس میں علاقائی صورتِ حال، دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

واضح رہے کہ امریکی افواج نے پیر کے روز مسلسل نویں دن ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے اہم بحری راستوں میں تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کی صلاحیت کو ناکارہ بنانے کے لیے کارروائی کی۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ نے بھی بتایا کہ امریکی میزائلوں نے پیر کی صبح سویرے ایران کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا، جن میں تبریز، چاہ بہار، کنارک، بندر ماہ شہر اور بندر امام خمینی شامل ہیں، جہاں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے شام کے علاقے التنف میں قائم امریکی اسپیشل آپریشنز ہیڈ کوارٹر اور اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر موجود امریکی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے پیر کو یہ بھی دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو تیل بردار جہاز دھماکوں کے بعد ناکارہ ہو گئے۔ ایرانی حکام کا الزام ہے کہ امریکی فوج نے ان جہازوں کو غیر محفوظ راستے سے گزرنے پر مجبور کیا۔

ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ جب تک خطے میں امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز محفوظ نہیں رہے گی، جب کہ کشیدگی کے باعث اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles