آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفترِ خارجہ


پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کی بحالی، مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کے پرامن حل اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں پوری تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، علاقائی سلامتی اور خارجہ امور سے متعلق اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے بحران پر بات کرتے ہوئے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ”پاکستان کا یہ پختہ مؤقف ہے کہ تمام تنازعات اور اختلافات کا پائیدار حل صرف اور صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی نکالا جا سکتا ہے۔“
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ”امن عمل کی کبھی موت نہیں ہوتی اور امن کی کوششیں دنیا میں کہیں نہ کہیں ہمیشہ جاری رہتی ہیں۔“
ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں پائیدار امن، باہمی احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے اب بھی ایک مؤثر اور مضبوط فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے دوران کچھ چیلنجز ضرور سامنے آئے ہیں، لیکن پاکستان تمام فریقین کو تشدد کا راستہ چھوڑنے اور جون 2026 کے پاک قطر مشترکہ اعلامیے کے مطابق تکنیکی سطح پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

ترجمان نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال سے ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ اس سے توانائی کی عالمی فراہمی، تجارت اور خوراک کا تحفظ خطرے میں پڑ رہا ہے۔
ترجمان نے پاکستانی قیادت کی حالیہ سفارتی مصروفیات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ تیرہ جولائی کو قطر کا دورہ کیا جس کا مقصد قطری قیادت سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔ اس کے علاوہ، دس جولائی کو وزیر اعظم نے قطری قیادت اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے الگ الگ رابطے کیے جن میں انہوں نے تمام فریقین پر ہر ممکن تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنے پر زور دیا۔ قطری قیادت نے اس موقع پر خطے میں امن قائم کرنے کے لیے پاکستان کے فعال اور مثبت کردار کی بھرپور تعریف کی۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حریت رہنماؤں کے خلاف بھارتی چارج شیٹ کی سخت مذمت کی اور کہا کہ بھارت سیاسی بنیادوں پر قائم جعلی مقدمات کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔
انہوں نے پہلگام واقعے کے حوالے سے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت تاحال کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے اور صرف سیاسی نعرے بازی کر رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں مقیم تمام چینی شہریوں کی حفاظت ہماری اولین ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں بیجنگ کے ساتھ ہر سطح پر مضبوط روابط قائم ہیں۔
برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اس جرم کی شدید مذمت کرتا ہے لیکن چونکہ ملزم شبیر حسین برطانوی شہری ہے، اس لیے یہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے اور حکومت پاکستان کا اس کیس سے کوئی قانونی تعلق نہیں ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles