امریکی فٹبالر کی سزا معطلی: یوئیفا اور بیلجیئم نے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیا

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کی جانب سے اہم میچ سے قبل مبینہ طور پر صدر ٹرمپ کے کہنے پر امریکی کھلاڑی پر عائد پابندی مؤخر کرنے کے فیصلے نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ یورپی فٹبال باڈی یو ای ایف اے (یوئیفا) نے اس فیصلے کو ناقابلِ فہم اور غیر منصفانہ قرار دیا ہے جب کہ بیلجیئم کی جانب سے بھی اس معاملے پر سخت تحفظات سامنے آئے ہیں۔

فیفا نے اتوار کے روز بیلجیئم اور امریکا کے ناک آؤٹ مرحلے کے اہم میچ سے قبل اعلان کیا کہ امریکی ٹیم کے اسٹرائیکر فلورین بالوگن کی ایک میچ کے لیے معطلی کو ایک سال کے آزمائشی عرصے کے لیے معطل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد وہ منگل کی صبح بیلجیم کے خلاف ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں کھیل سکیں گے۔

یوئیفا نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریڈ کارڈ کے بعد کم از کم ایک میچ کی خودکار معطلی کوئی اختیاری سزا نہیں بلکہ ضوابط کا بنیادی حصہ ہے، جسے جاری ٹورنامنٹ کے دوران کسی استثنا کے تحت مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔

یوئیفا کے مطابق جب دیگر کھلاڑی اسی قانون کے تحت اپنی معطلی پوری کر چکے ہوں تو کسی ایک کھلاڑی کے لیے مختلف رویہ اختیار کرنا مقابلے کی ساکھ اور شفافیت کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اس سے مستقبل میں ایسے مزید کیسز کے لیے ایک مثال بھی قائم ہو جائے گی۔

بالوگن کو بوسنیا کے خلاف راؤنڈ آف 32 کے میچ میں ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (وی اے آر) کے جائزے کے بعد ریڈ کارڈ ملا تھا، جب وہ بوسنیا کے ایک کھلاڑی کے پاؤں پر چڑھ گئے تھے۔ امریکا نے وہ میچ صفر کے مقابلے میں دو گول سے جیت لیا تھا۔

فیفا کے قواعد کے مطابق ریڈ کارڈ کی صورت میں کھلاڑی پر ایک میچ کی پابندی عائد ہوجاتی ہے، جس کے خلاف متعلقہ ٹیم کرنے کی بھی مجاز نہیں ہوتی ہے۔

تاہم فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے اس پابندی کو ایک سال کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ کیا اور اس اچانک فیصلے کی کوئی تفصیلی بھی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ فیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے تحت کیا گیا جو بعض حالات میں سزا کو آزمائشی مدت کے لیے معطل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اس فیصلے کے بعد اگر بالوگن آئندہ ایک سال کے دوران اسی نوعیت کی کوئی خلاف ورزی دوبارہ کرتے پائے گئے تو نئی سزا کے ساتھ یہ سزا بھی بحال ہوجائے گی۔

یہ تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذاتی طور پر فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کو فون کر کے بالوگن کی سزا پر نظرثانی کی درخواست کی تھی۔

ذرائع کے مطابق یہ فون کال بدھ کے روز ہوئی، یعنی اسی دن جب بالوگن کو ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی عوامی سطح پر ریڈ کارڈ واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’درست فیصلہ کرنے اور ایک بڑی ناانصافی کو ختم کرنے پر فیفا کا شکریہ۔‘

فیفا کے فیصلے پر بیلجیم فٹبال فیڈریشن نے بھی شدید حیرت کا اظہار کیا ہے اور اسے فیفا کے اپنے قواعد سے براہِ راست متصادم قرار دیا۔ فیڈریشن نے کہا کہ وہ تمام ممکنہ قانونی اور انتظامی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ٹورنامنٹ میں شریک ٹیموں کے جائز حقوق اور فٹبال میں فیئر پلے کے بنیادی اصولوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

بیلجیم کے ہیڈ کوچ روڈی گارشیا نے طنزیہ انداز میں کہا، ’مجھے معلوم نہیں تھا کہ ورلڈ کپ میں یکم اپریل یعنی اپریل فول ڈے 5 جولائی کو ہوتا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی ایک ٹیم یا فیڈریشن کے حق میں نہیں بلکہ فٹبال کی اخلاقی اقدار اور کھیل کی سالمیت کے دفاع کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔

بیلجیم کے گول کیپر تھیبو کورتوا نے بھی فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ فیصلہ پہلے سامنے آ جاتا تو ان کی ٹیم ذہنی طور پر بہتر تیاری کر سکتی تھی۔

دوسری جانب امریکی ٹیم نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ امریکی ہیڈ کوچ ماریسیو پوچیٹینو نے کہا کہ بالوگن کو ریڈ کارڈ دکھانا ہی درست فیصلہ نہیں تھا اور غیر ارادی فاؤل پر اتنی سخت سزا مناسب نہیں تھی۔

امریکی اسٹار کرسچن پولیسک نے اس فیصلے کو ٹیم کے لیے ”بڑا حوصلہ افزا قدم“ قرار دیا، جبکہ امریکی فٹبال فیڈریشن نے بھی اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس سے قبل بھی ایک نظیر موجود ہے۔ گزشتہ سال پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو کو کوالیفائنگ میچ میں کہنی مارنے پر تین میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم ان کی دو میچوں کی معطلی معطل کر دی گئی تھی، جس کے باعث وہ پرتگال کے افتتاحی ورلڈ کپ میچ میں شرکت کر سکے تھے۔ اس فیصلے پر بھی اس وقت تنقید کی گئی تھی۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles