
امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی مرکزی تقریب کے دوران طوفانی موسم کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرکت کی اور واشنگٹن کے نیشنل مال میں شرکاء سے انتخابی مہم جیسا خطاب کیا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق خراب موسم کے باعث تقریب میں تاخیر ہوئی، تاہم صدر ٹرمپ امریکی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 15 منٹ پر اسٹیج پر پہنچے اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت پڑتی تو وہ مزید انتظار کرنے کے لیے بھی تیار تھے۔ ان کا کہنا تھا، ہمیں کسی صورت روکا نہیں جا سکتا۔
موسمی حالات کے باعث حکام نے ابتدا میں واشنگٹن مونومنٹ کے قریب موجود کھلے میدان کو خالی کرا لیا تھا اور شرکاء کو چند گھنٹوں کے لیے قریبی عجائب گھروں اور سرکاری عمارتوں میں پناہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ بعد ازاں موسم بہتر ہونے پر لوگوں کو دوبارہ تقریب کے مقام پر آنے کی اجازت دے دی گئی۔
تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے افراد کو سخت سیکیورٹی انتظامات اور شدید گرمی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ درجہ حرارت 102 ڈگری فارن ہائیٹ (39 ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ چکا تھا، جس کے باعث ریکارڈ گرمی کی لہر کے دوران کئی پریڈز اور دیگر تقریبات منسوخ کر دی گئیں تھیں۔
جنوبی ڈکوٹا کے شہر سیوکس فالس سے آنے والے 60 سالہ سافٹ ویئر انجینئر گلین سولینڈر نے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر انتظار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب اسی تجربے کا حصہ ہے جس کے لیے میں آیا ہوں۔
تقریب میں سفید فام قوم پرست تنظیم پیٹریاٹ فرنٹ کے ارکان بھی شریک ہوئے تھے۔ تنظیم نے سوشل میڈیا پر دارالحکومت پہنچنے کی تصدیق کی تھے، جبکہ اس کے لباس میں ملبوس سینکڑوں افراد واشنگٹن کے میٹرو ٹرین نظام کے ذریعے شہر پہنچے۔
مقامی پولیس کے مطابق اس حوالے سے کسی بھی قسم کے تشدد یا ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق ماضی میں امریکی صدور عام طور پر 4 جولائی کی تقریبات میں ذاتی طور پر شرکت سے گریز کرتے رہے ہیں، تاہم صدر ٹرمپ نے سرکاری قومی تقریب اور انتخابی طرز کی سیاست کے درمیان فرق کو مزید دھندلا دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے زیر انتظام فریڈم 250 گروپ نے 2016 میں قائم کیے گئے غیرجانبدار ادارے کو بڑی حد تک پس منظر میں دھکیل دیا، جسے 250ویں سالگرہ کی تقریبات کے انتظامات کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
اس موقع پر نیشنل مال کے تقریباً ڈیڑھ میل (2.4 کلومیٹر) طویل حصے کو گریٹ امریکن اسٹیٹ فیئر کے لیے مختص کیا گیا، جہاں فیرس وہیل، قدامت پسند تنظیموں کے اسٹالز اور دفاعی کمپنیوں کی نمائش بھی شامل تھی۔
دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی کے زیر انتظام کئی ریاستوں نے اپنی نمائندہ ٹیمیں بھیجنے سے انکار کیا، جبکہ متعدد فنکاروں نے بھی سیاسی جانبداری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تقریب میں شرکت سے دستبرداری اختیار کی۔