جان لیوا ایل نینو کے اثرات، یورپ میں گرمی سے ہلاک افراد کی تعداد 3 ہزار 700 ہوگئی

یورپ میں شدید گرمی کی لہر نے تباہی مچا دی، مختلف ممالک میں گرمی سے متعلق واقعات میں مجموعی طور پر 3 ہزار 700 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ایل نینو سسٹم دوبارہ فعال ہونے سے عالمی درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں فرانس میں ریکارڈ کی گئیں، جہاں شدید گرمی کے باعث 2 ہزار 25 افراد ہلاک ہوگئے۔

بیلجیئم میں گرمی سے 1 ہزار 200 جبکہ نیدرلینڈز میں 480 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس کے علاوہ اسپین میں بھی شدید گرمی کے باعث سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے، تاہم وہاں ہلاکتوں کی حتمی تعداد تاحال سامنے نہیں آئی۔

ماہرین کے مطابق یورپ میں حالیہ ہیٹ ویو نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، متعدد علاقوں میں درجہ حرارت کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ گیا، جس کے باعث بزرگ افراد، بچے اور پہلے سے بیمار شہری سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی موسمیاتی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ایل نینو سسٹم دوبارہ زور پکڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں اوسط درجہ حرارت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی حدت میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آسکتی ہیں، جس سے انسانی جانوں، زراعت، پانی کے ذخائر اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles