بلوچستان بس حادثہ: کوچ کمپنی کے خلاف مقدمہ درج، کوئٹہ میں دفاتر سیل


بلوچستان حکومت نے دانہ سر میں پیش آنے والے المناک بس حادثے کے بعد متعلقہ مسافر کوچ کمپنی کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے جب کہ کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کرکے کوئٹہ میں موجود دفاتر سیل کر دیے گئے ہیں اور حادثے کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
جمعے کو بلوچستان حکومت نے ضلع شیرانی کے علاقے دانہ سر میں بس حادثے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے متعلقہ مسافر کوچ کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
حکام کے مطابق مقدمہ درج ہونے کے بعد کوئٹہ میں موجود مسافر کوچ کمپنی کے دفاتر بھی سیل کر دیے گئے ہیں تاہم کارروائی کے باوجود حکومت کی جانب سے تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔
حکام کا کہنا ہے کہ دانا سر میں پیش آنے والے مسافر بس حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس بلوچستان کے ضلع شیرانی کے دشوار گزار پہاڑی علاقے دانہ سر میں ڈرائیور سے بے قابو ہوکر گہری کھائی میں جاگری، جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق اور 8 افراد زخمی ہوگئے۔

معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند نے حادثے میں 40 افراد کے جاں بحق اور 8 کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام زخمیوں کو ریسکیو کرکے طبی امداد کے لیے ژوب منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق بس 70 فٹ سے زائد گہری کھائی میں گری، جس کے باعث گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی، کئی مسافر بس کے ملبے میں پھنس گئے تھے جنہیں نکالنے کے لیے ریسکیو اہلکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
ڈپٹی کمشنر شیرانی حضرت ولی کاکڑ کے مطابق بس کوئٹہ سے روانگی کے وقت 36 مسافروں کو لے کر روانہ ہوئی تھی تاہم راستے میں ایک دوسری خراب ہونے والی مسافر بس کے مسافروں کو بھی اسی گاڑی میں منتقل کیا گیا، جس کے باعث مسافروں کی تعداد معمول سے زیادہ ہوگئی۔
حادثے کے بعد شیرانی، ژوب اور خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ریسکیو ٹیمیں، ایمبولینسیں اور امدادی عملہ موقع پر پہنچا جب کہ ژوب کے سرکاری اسپتال اور ٹراما سینٹر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
حکام کے مطابق حادثہ کوئٹہ سے تقریبا 400 کلو میٹردور ضلع شیرانی کے علاقے میں پیش آیا جب کہ ضلعی انتظامیہ متاثرہ خاندانوں کی معاونت اور جاں بحق افراد کی شناخت کے عمل میں مصروف ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles