لاہور: رائے ونڈ میں گھر کی چھت اچانک گرنے سے 13 سالہ بچی جاں بحق


لاہور کے علاقے رائے ونڈ میں ٹی ایچ کیو اسپتال کے قریب ایک گھر کی چھت اچانک گرنے سے 13 سالہ بچی جاں بحق جب کہ 3 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو کے مطابق اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق بچے گھر کی چھت پر کھیل رہے تھے کہ اچانک ٹی آر گارڈر سے بنی چھت منہدم ہو گئی۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والی بچی کی شناخت 13 سالہ حمیرا کے نام سے ہوئی ہے جب کہ زخمیوں میں 30 سالہ رمشا بی بی، 50 سالہ رشیدہ بی بی اور 13 سالہ سمیرہ بی بی شامل ہیں۔

ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مزید علاج کے لئے ٹی ایچ کیو رائے ونڈ اسپتال منتقل کر دیا۔
واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ 2 روز قبل 30 جون کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کی وجہ سے ملبے تلے دب کر 14 کم عمر بچے جاں بحق ہوگئے، حادثہ اُس وقت پیش آیا جب بچے زیرِ تعلیم تھے اور چھت پر تعمیرات کا کام جاری تھا۔
چھت پر ضرورت سے زیادہ وزن ہونے کے باعث لوہے کے ٹی آر گارڈر بوجھ برداشت نہ کر سکے اور یکدم ٹوٹ گئے، جس سے منوں وزنی ملبہ نیچے پڑھتے ہوئے بچوں پر جا گرا، واقعے کے وقت سینٹر میں 30 بچے موجود تھے، جن میں سے 14 جانیں ضائع ہوگئی تھیں۔
جس کے بعد آج 2 جولائی کو لاہور کے علاقے باغبانپورہ میں بھی ایسا ہی ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں نجی اسکول میں تعمیراتی کام کے دوران چھت گرنے سے 7 سالہ بچہ ابو بکر جاں بحق اور 2 راہ گیر اور 2 مزدور شدید زخمی ہوگئے۔

ریسکیو حکام نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکال کر فوری طور پر اسپتال منتقل کیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ ایجوکیشن اتھارٹی کی مدعیت میں درج کرلیا ہے اور اسکول کی 6 خواتین اساتذہ اور وائس پرنسپل کو حراست میں لے لیا ہے جب کہ اسکول کو بھی سیل کردیا گیا ہے۔
مقدمے میں اسکول انتظامیہ اور ٹھیکیدار کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے جب کہ غیر قانونی سمر کیمپس کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز بلال کاظمی اور طاہرہ نذیر کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles