پلیسنٹا اسمگلنگ کیس: انسانی نال سے اینٹی ایجنگ انجکشنز بنائے جانے کا انکشاف


اسلام آباد میں ہیومن پلیسنٹا کیس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انسانی پلیسنٹا مبینہ طور پر اینٹی ایجنگ انجیکشن تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جب کہ حکام نے ویتنام جانےوالی100 کلو کی کنسائنمنٹ کی ایکسپورٹ بھی ناکام بنا دی ہے۔
اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے ہیومن پلیسنٹا اسمگلنگ کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق انسانی پلیسنٹا کو اینٹی ایجنگ انجیکشن کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اینٹی ایجنگ انجیکشنز یا شاٹس کی قیمت تقریباً 7 لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔
تحقیقات کے دوران ایف آئی اے نے لاہور، پشاور اور راولپنڈی میں مبینہ ایجنٹس کی بھی نشاندہی کر لی ہے جب کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے ممکنہ کردار کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق 100 کلو گرام کی ایک کھیپ کو بھی روک لیا گیا ہے جو ویتنام روانہ کی جارہی تھی۔ دوسری جانب اس کیس میں کسٹمز اہلکاروں کے ممکنہ طور پر ملوث ہونے کے پہلو کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔

واضح رہے کہ پلیسنٹا، جسے عام زبان میں ’نال‘ یا ’آنول نال‘ بھی کہا جاتا ہے، حمل کے دوران ماں کے رحم میں بننے والا ایک عارضی عضو ہے۔ یہ زچگی تک ماں اور بچے کے درمیان لائف لائن کا کردار ادا کرتا ہے۔
طبی قوانین کے مطابق اسے انفیکشیئس میڈیکل ویسٹ (طبی فضلہ) مانا جاتا ہے اور اسے مخصوص طریقوں سے تلف کیا جانا ضروری ہے۔
پاکستان کے ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت انسانی جسم کے کسی بھی عضو، ٹشو یا جسمانی حصے کی تجارتی خرید و فروخت ممنوع اور سنگین جرم ہے۔
24 جون کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) نے انسانی اعضاء کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت سے متعلق اطلاعات ملنے پر اسلام آباد میں ایک نجی رہائش گاہ پر مشترکہ چھاپہ مارا تھا۔
ابتدائی تفتیش میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ ملزمان مختلف اسپتالوں سے انسانی پلیسنٹا خریدتے، اسے بھیڑ کا پلیسنٹا ظاہر کرتے اور پھر مبینہ طور پر بیرونِ ملک اسمگل کرتے تھے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles