فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے دوران جب دنیا بھر کے کروڑوں شائقین ٹی وی اسکرینز پر میچ دیکھیں گے تو ان کی نظریں کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ گراؤنڈ کی انتہائی ہموار اور چمکدار ہری گھاس پر بھی پڑیں گی۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ یہ عام سی گھاس ہوتی ہے جسے مالی روز پانی دیتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ ایک اعلیٰ معیار کا فٹبال گراؤنڈ محض گھاس کا میدان نہیں ہوتا بلکہ یہ زراعت، درجہ حرارت کے کنٹرول، انجینئرنگ اور جدید ترین لاجسٹکس کا ایک ایسا شاہکار ہے جس کے نیچے کئی حیران کن سسٹم کام کر رہے ہوتے ہیں۔
فٹبال ورلڈ کپ کے گراؤنڈز کو اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ وہ ایک مہینے کے دوران کھلاڑیوں کے جوتوں، سلائیڈنگ ٹیکلز اور موسم کی سختیوں کو کم از کم چار مرتبہ برداشت کر سکیں، اور چاہے میچ میامی کی گرمی میں ہو یا میکسیکو سٹی کی اونچائی پر، گیند کے اچھلنے اور گھومنے کی رفتار ہر جگہ ایک جیسی رہے۔
ماضی میں فٹبال کی پچز آدھے میچ کے بعد مٹی کا ڈھیر بن جاتی تھیں اور بارش میں دلدل کی شکل اختیار کر لیتی تھیں، لیکن اب جدید دور کے تیز کھیل میں اس کی گنجائش بالکل ختم ہو چکی ہے۔

اس ہریالی کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے پہلا مرحلہ درست گھاس کا انتخاب ہے۔
ٹھنڈے علاقوں کے اسٹیڈیمز کے لیے رائی گراس اور کینٹکی بلیو گراس کا مکسچر استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ گھاس تیزی سے اگتی ہے اور خراب ہونے کے بعد خود کو جلد ٹھیک کر لیتی ہے، جبکہ گرم اور تیز دھوپ والے اسٹیڈیمز کے لیے برموڈا گراس بہترین سمجھی جاتی ہے جو گرمی اور خشکی کو برداشت کر سکتی ہے۔
فیفا کے پچ مینیجر ڈیوڈ گراہم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ہم نے موسم اور اسٹیڈیم کی ساخت کو دیکھ کر گھاس کا انتخاب کیا ہے، مثال کے طور پر نیویارک اور نیو جرسی جیسے گرم مقامات کے لیے برموڈا گراس موزوں ہے، جبکہ میکسیکو سٹی میں اس کی اونچائی کی وجہ سے ٹھنڈے موسم کی گھاس استعمال کی جائے گی۔
مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے لیبارٹری میں ٹیسٹ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اسٹیڈیم جن پر چھت ہوتی ہے اور دھوپ کم آتی ہے، وہاں رائی گراس اور بلیو گراس کا مکسچر سب سے بہترین نتائج دیتا ہے۔

اس گھاس کو اسٹیڈیم میں لانے سے مہینوں پہلے خاص فارمز پر اگایا جاتا ہے۔ وہاں گھاس کو ریت کے بستروں پر اتنی گنجان بوجھ کے ساتھ اگایا جاتا ہے اور بار بار کاٹا جاتا ہے تاکہ وہ اوپر بڑھنے کے بجائے زمین پر چوڑائی میں پھیل جائے۔ اس دوران مٹی کی تیزابیت، نمی اور غذائیت کو کمپیوٹرائزڈ سینسرز کے ذریعے مانیٹر کیا جاتا ہے۔
جب یہ گھاس پوری طرح تیار ہو جاتی ہے تو اسے کارپٹ کی طرح لمبی پٹیوں میں جڑوں سمیت اکھاڑ کر رول کر لیا جاتا ہے۔

چونکہ یہ گھاس اکھڑنے کے بعد گرمی سے خراب ہو سکتی ہے، اس لیے اسے آئس کریم یا ادویات کی طرح بالکل ٹھنڈے فریزر والے ٹرکوں میں رکھ کر اسٹیڈیم پہنچایا جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ سفر ہزاروں کلومیٹر طویل ہوتا ہے۔
اسٹیڈیم کے اندر پہنچ کر کارکنان لیزر کے ذریعے بالکل ہموار کی گئی زمین پر ان پٹیوں کو قالین کی طرح بچھا دیتے ہیں اور ان کے جوڑوں کو ہاتھوں سے اتنی صفائی سے ملاتے ہیں کہ وہ الگ نظر نہ آئیں۔ یہ پورا کام محض اڑتالیس گھنٹوں کے اندر مکمل کر لیا جاتا ہے۔

گھاس بچھانے کے بعد اس کی مضبوطی بڑھانے کے لیے ایک خاص مشین کے ذریعے لاکھوں مصنوعی یا پلاسٹک کے دھاگوں سے زمین کے اندر اٹھارہ سینٹی میٹر گہرائی تک ٹانکے لگا دیے جاتے ہیں۔ جیسے جیسے اصلی گھاس اگتی ہے، اس کی جڑیں ان پلاسٹک کے دھاگوں کے گرد لپٹ جاتی ہیں، جس سے یہ ایک ہائبرڈ یا مکس پچ بن جاتی ہے۔
تماشائیوں کو یہ دھاگے بالکل نظر نہیں آتے لیکن اس سلائی کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کے سخت جوتوں سے گھاس اکھڑتی نہیں ہے۔

اس کے بعد اصل امتحان گراؤنڈ کے نگرانوں کا ہوتا ہے جو میچ کے بعد فوراً فورک یا کانٹے لے کر میدان میں نکل پڑتے ہیں اور جہاں بھی گھاس اکھڑی ہو، اسے واپس دبا کر برابر کرتے ہیں۔
گیند کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے روزانہ گھاس کو بیس سے تیس ملی میٹر کی اونچائی تک کاٹا جاتا ہے، اور پانی کی مقدار کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کیونکہ زیادہ پانی کھلاڑیوں کے پاؤں بھاری کر دیتا ہے اور خشک پچ گیند کو سست کر دیتی ہے۔
اس شاندار گھاس کے نیچے جو نظام چھپا ہے، وہ کسی جادو سے کم نہیں ہے۔
زمین کے نیچے سب سے پہلے ریت اور مٹی کی ایک تہہ ہوتی ہے جو نمی کو روکتی ہے۔ اس کے نیچے موٹی ریت اور بجری کا ایک جال ہوتا ہے جو بارش کے پانی کو منٹوں میں نیچے کھینچ لیتا ہے۔ یہیں پر ہیٹنگ پائپ بھی لگے ہوتے ہیں جو سردی میں پچ کا درجہ حرارت کنٹرول کرتے ہیں، اور پانی کو نکالنے یا تازہ ہوا کو جڑوں تک پہنچانے کے لیے پلاسٹک کے ماڈیولر سسٹم لگے ہوتے ہیں جو زیرِ زمین ڈیم کا کام کرتے ہیں۔

اسٹیڈیم کے اپنے موسم یا سائے سے نمٹنے کے لیے میچ کے بعد بڑی بڑی موبائل گرو لائٹس (مصنوعی روشنی دینے والی مشینیں) گراؤنڈ میں لا کر کھڑی کر دی جاتی ہیں تاکہ گھاس کو رات کو بھی سورج جیسی روشنی ملتی رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ ختم ہوتے ہی کئی اسٹیڈیمز سے یہ گھاس اتنی ہی جلدی ہٹا دی جائے گی جتنی جلدی بچھائی گئی تھی تاکہ وہاں دوسرے کھیل کھیلے جا سکیں۔
ایک بہترین فٹبال پچ کی کامیابی یہی ہے کہ جب کھیل اچھا ہو تو لوگ گھاس کو بھول کر صرف میچ کا لطف اٹھائیں، لیکن اس سادگی کے پیچھے مہینوں کی سائنسی محنت چھپی ہوتی ہے۔