امریکا اور ایران کتنی بار ڈیل کے قریب پہنچ کر ناکام ہوئے؟

امریکا اور ایران کے درمیان 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر حملوں کے آغاز کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو 100 دن مکمل ہو چکے ہیں، تاہم دونوں ممالک کے درمیان مستقل امن معاہدہ اب تک طے نہیں پا سکا۔ اس دوران کئی مواقع ایسے آئے جب فریقین معاہدے کے قریب دکھائی دیے، مگر ہر بار اہم اختلافات نے پیش رفت روک دی۔

ایران جنگ کا آغاز امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی آپریشن ایپک فیوری سے ہوا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد کشیدگی میں کمی آئی، تاہم 12 اپریل کو براہ راست مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں ممالک نے پاکستان کے ذریعے مختلف تجاویز کا تبادلہ جاری رکھا۔

11 اور 12 اپریل کو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی نمائندے اسلام آباد میں آمنے سامنے بیٹھے۔

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی جبکہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل تھے۔ ایرانی وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سینئر جوہری مذاکرات کار علی باقری کنی شامل تھے۔

مذاکرات سے قبل قالیباف نے واضح کیا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی تہران کے لیے ناقابلِ مذاکرات شرائط ہیں۔

مذاکرات کو تیسرے دن تک بڑھانے پر بھی غور کیا گیا، تاہم امریکی وفد نے گفتگو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ دونوں جانب اہم بات چیت ہوئی، لیکن ایران نے امریکا کی حتمی اور بہترین پیشکش قبول نہیں کی۔

سب سے بڑا اختلاف ایران کے جوہری پروگرام پر سامنے آیا۔ امریکا ایران سے 60 فیصد تک افزودہ تقریباً 440 کلوگرام یورینیم کے ذخیرے کی حوالگی کا مطالبہ کرتا ہے جس پر ایران نے اب تک آمادگی ظاہر نہیں کی۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکا، اسرائیل اور مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ یہ صلاحیت مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔

مذاکرات کی ناکامی کے چند دن بعد واشنگٹن نے ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری تجارت پر ناکہ بندی کا اعلان کیا، جس سے امن عمل کو شدید دھچکا پہنچا۔

16 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے تاکہ مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رہ سکیں۔

ایران طویل عرصے سے کہتا آیا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کسی بھی وسیع تر امن منصوبے کی بنیادی شرط ہے، اسی لیے اس اعلان کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان پیش رفت کی امید پیدا ہوئی۔

تاہم جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے حملے جاری رہے۔ نارویجن ریفیوجی کونسل کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایک ماہ کے دوران تقریباً 600 افراد جاں بحق ہوئے۔

ایران نے لبنان میں امن کو اپنی سرخ لکیر قرار دیا ہوا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ بھی حل طلب رہا۔

17 اپریل کو عباس عراقچی نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کی مدت تک آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلی رہے گی۔ ٹرمپ نے بھی اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔

جنگ کے دوران ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

ایران ماضی میں جنگ کے خاتمے کے لیے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجاویز دیتا رہا، لیکن امریکا نے اسے قبول نہیں کیا۔

اگرچہ ایران نے راستہ کھولنے کا اعلان کیا، مگر امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اس پر ایران نے جواب دیا کہ اگر اس کے اپنے جہاز آزادانہ نقل و حرکت نہیں کر سکتے تو دوسروں کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی، جس کے بعد اس نے بعض غیر ملکی جہازوں کو روکنے یا ان پر کارروائی کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس تنازع نے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کے کنٹرول کو بھی مذاکرات کا مرکزی مسئلہ بنا دیا۔

بعد ازاں یکم جون کو امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر سخت گفتگو ہوئی۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے لبنان پر مسلسل حملوں کی صورت میں مذاکرات سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی تھی، جس کے بعد ٹرمپ نے نیتن یاہو پر برہمی کا اظہار کیا۔ اس پیش رفت سے یہ امید پیدا ہوئی کہ واشنگٹن اسرائیل پر دباؤ ڈال کر لبنان میں حملے رکوا سکتا ہے۔

تاہم عملی طور پر اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں۔ جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر حملے کیے گئے، جن میں جانی نقصان بھی ہوا، جبکہ بعض قصبوں اور دیہات کے لیے انخلا کے احکامات بھی جاری کیے گئے۔

معاہدہ کیوں نہ ہو سکا؟

سیاسی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کئی بار معاہدے کے قریب ضرور پہنچے، لیکن جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے ذخائر، لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں، آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور پابندیوں کے خاتمے جیسے بنیادی اختلافات ہر بار رکاوٹ بنے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ تھنک ٹینک کے ایک سینئر ایرانی تجزیہ کار نیسان رفعتی کے مطابق اکثر معاملات پر پیش رفت ہو جاتی ہے، لیکن باقی رہ جانے والے چند اہم نکات ہی سب سے مشکل ثابت ہوتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ فریقین بار بار معاہدے کے قریب پہنچنے کے باوجود حتمی اتفاق رائے حاصل نہیں کر سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles