
قطر نے واضح کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کو کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران پر طے شدہ فوجی حملے مؤخر کر دیے ہیں۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات، جن میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، ایک سنجیدہ سفارتی کوشش ہیں تاہم انہیں نتیجہ خیز بنانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
منگل کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر تفصیلی بات چیت کی۔
قطری ترجمان نے کہا کہ دوحہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے اور سفارتی روابط کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ قطر سمیت بعض خلیجی ممالک کی درخواست پر ایران کے خلاف حملہ مؤخر کیا گیا، یہ رابطے مثبت پیش رفت کی علامت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان کی ان سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں جس نے فریقین کو ایک میز پر لانے اور حل تلاش کرنے میں انتہائی سنجیدہ اور اہم کردار کیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارا ماننا ہے کہ اس عمل کی کامیابی کے لیے مزید وقت ملنا چاہئے‘۔
ایران کے ساتھ قطر کے تعلقات سے متعلق بات کرتے ہوئے قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ قطر اور ایران کے درمیان روابط موجود ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت تعلقات ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کی جانب سے قطر پر حملے دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے سوال پر قطری ترجمان نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو کسی بھی حالت میں اس آبی گزرگاہ تک رسائی روکنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارتی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اس کی بندش کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صورتِ حال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی، صرف دو ایل این جی ٹینکرز کے گزرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس راستے میں معمول کی ٹریفک بحال ہو چکی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران ماجد الانصاری نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا قطر ان مذاکرات کے حتمی معاہدے کے حوالے سے پرامید ہے یا نہیں اور نہ ہی انہوں نے صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ پر مزید کوئی تبصرہ کیا۔
قطری ترجمان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا بنیادی مقصد خطے کے عوام کا تحفظ ہے، کیوں کہ کسی بھی قسم کی جنگ اور کشیدگی کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان خطے کے عوام کا ہی ہوگا۔