‘وہ جانتے ہیں جلد کیا ہونے والا ہے‘: ٹرمپ نے ایران سے رعایت کا امکان مسترد کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ تہران کے لیے کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو بخوبی معلوم ہے کہ جلد کیا ہونے والا ہے۔

امریکی اخبار ’نیو یارک پوسٹ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے ایران کی حالیہ سفارتی پیش رفت پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں امریکا کسی بھی نرم رویے یا سمجھوتے پر غور نہیں کر رہا۔

امریکی صدر نے اس سوال پر کہ آیا وہ ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام پر 20 سالہ پابندی یا وقفے کے لیے تیار ہیں، واضح طور پر کہا کہ میں اس وقت کسی چیز کے لیے تیار نہیں ہوں، جس سے ان کے پہلے نرم مؤقف میں واضح تبدیلی سامنے آتی ہے۔

نیو یارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر حالیہ دنوں میں اپنی قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ مسلسل مشاورت کر رہے ہیں، جب کہ ایران کے حوالے سے آئندہ اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ ایران کے بارے میں تفصیلات نہیں بتا سکتے، تاہم تہران کو صورتِ حال کا اندازہ ہے اور واشنگٹن کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں۔

اس سے قبل پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بعض میڈیا ادارے اور ڈیموکریٹس کسی بھی صورت حال کو امریکا کے خلاف پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اپنی پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایران مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے، اپنی بحریہ اور فضائیہ کی تباہی تسلیم کرے اور اس کی فوج ہتھیار پھینک کر سفید جھنڈا لہراتے ہوئے سرنڈر کر دے جب کہ قیادت باضابطہ طور پر شکست کی دستاویزات پر دستخط بھی کر دے تو بھی بعض میڈیا ادارے اس صورت حال کو بھی ایران کی فتح کے طور پر پیش کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں بعض میڈیا اداروں سی این این، نیویارک ٹائمز اور دی وال اسٹریٹ جنرل کا نام لیتے ہوئے تنقید کی۔ انہوں نے ان اداروں اور ڈیموکریٹس پر الزام عائد کیا کہ وہ صورت حال کو غلط انداز میں پیش کرتے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ ان کے مطابق یہ حلقے اپنا راستہ کھو چکے ہیں اور ان کی سوچ میں بگاڑ پیدا ہو چکا ہے۔

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر کوئی واضح مؤقف نہیں دیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے فریم ورک پر بات چیت جاری ہے جب کہ یہ عمل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کیے گئے تنازع کے تقریباً 80 دن بعد جاری ہے۔

اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ متعدد بار ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں اور امن معاہدے کے لیے ڈیڈ لائنز کا ذکر کرتے رہے ہیں تاہم بعض مواقع پر انہوں نے مذاکرات کے لیے مہلت بڑھانے اور سفارت کاری کو موقع دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles