
حکومتِ پاکستان نے سعودی عرب پر ہونے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حملے ڈرون حملے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں جب کہ پاکستان نے سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔
پیر کو ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان 17 مئی 2026 کو برادر اسلامی ملک سعودی عرب پر کیے گئے ڈرون حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ حملے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں، ڈرون حملے خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس نازک وقت میں سعودی عرب کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی، امن اور خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
یاد رہے کہ سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ عراق کی جانب سے 3 ڈرون طیاروں کے ذریعے سعودی عرب پر حملے کی کوشش کی گئی تاہم سعودی فضائی دفاع نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تینوں ڈرون فضا میں ہی تباہ کردیا۔
سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حملے کا نشانہ سعودی عرب کی خود مختاری اور سلامتی تھا مگر سعودی دفاعی نظام نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے کسی بھی ممکنہ نقصان سے قبل خطرے کو ناکام بنا دیا۔
ترجمان سعودی وزارتِ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب مناسب وقت پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور مملکت سعودی عرب اپنی علاقائی سلامتی، خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکا و اسرائیل کے درمیان جنگ بھڑکنے کے بعد سے یہ پہلا موقع نہیں ہے جب عراق سے آنے والے میزائلوں یا ڈرونز کے ذریعے سعودی سرزمین کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہو۔
عراقی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کی جنگ اور تنازع میں ملوث نہ ہونے کے خواہش مند ہیں اور عراقی سرزمین سے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنانے کی اجازت نہ دینے کے مؤقف پر قائم ہیں۔