ایران کی فٹ بال ٹیم ترکی پہنچ گئی، فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کا اہم مرحلہ شروع

ایران کی قومی مردوں کی فٹ بال ٹیم 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کی تیاریوں اور امریکی ویزا درخواستوں کی تکمیل کے لیے جنوبی ترکی کے شہر انطالیہ پہنچ گئی ہے۔ تاہم ٹیم کی آئندہ ٹورنامنٹ میں شرکت سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال اب بھی برقرار ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ٹیم کے کھلاڑی اور ان کا عملہ انطالیہ ایئرپورٹ سے مقامی وقت کے مطابق تقریباً شام 4 بجے کے قریب باہر نکلتے ہوئے دیکھے گئے۔ ٹیم یہاں تربیتی کیمپ کے دوران اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے گی۔

ایران کی ٹیم، جو ’ٹیم میلی‘ کے نام سے جانی جاتی ہے، اس دوران گیمبیا کے خلاف ایک دوستانہ میچ بھی کھیلے گی۔ 30 کھلاڑیوں پر مشتمل ابتدائی اسکواڈ کو کیمپ کے بعد کم کر کے 26 کھلاڑیوں تک محدود کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی ٹیم کو ورلڈ کپ میں اپنے تمام گروپ میچز امریکا میں کھیلنے ہیں، تاہم حالیہ کشیدگی اور سفری پابندیوں کے باعث ٹیم کی شرکت پر سوالات برقرار ہیں۔ ایران اور فیفا حکام کے مطابق ٹیم کے ویزا درخواستوں کا عمل ترکی میں مکمل کیا جا رہا ہے۔

غیر یقینی صورتِ حال اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر کو کینیڈا میں فیفا اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا، جس کی وجہ ان کے مبینہ روابط ایرانی انقلابی گارڈز سے بتائے گئے، جنہیں امریکا اور کینیڈا دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب فیفا اور ایرانی فٹ بال حکام نے اس معاملے پر اعتماد ظاہر کیا ہے کہ ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت ممکن ہو سکے گی، تاہم ٹیم نے امریکا کے بجائے اپنے میچز میکسیکو منتقل کرنے کی درخواست بھی کی تھی، جسے فیفا نے مسترد کر دیا۔

فیفا کے مطابق تمام میچز طے شدہ وینیوز پر ہی ہوں گے، جب کہ ایران کی ٹیم جون کے اوائل میں امریکا کے شہر ٹکسن میں اپنے بیس کیمپ منتقل ہوگی۔ ایران اپنا پہلا گروپ میچ 15 جون کو نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں کھیلے گا۔

خیال رہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر 2026 کا فیفا ورلڈ کپ منعقد کر رہے ہیں۔ حالیہ سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث بعض ٹیموں کی شرکت اور ویزا عمل غیر معمولی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles