پنکی کو بچانے کے لیے نام معلوم قوتیں متحرک


کراچی میں مبینہ منشیات فروش خاتون پنکی کو بچانے کے لیے بعض نامعلوم قوتوں کے متحرک ہونے کا انکشاف سامنے آگیا، جبکہ گارڈن تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پراسرار طور پر غائب ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ کو تھانے کب لایا گیا اور کب وہاں سے روانہ کیا گیا، اس حوالے سے کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ گارڈن تھانے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج دستیاب نہیں، جس پر پولیس حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اُس وقت بجلی موجود نہیں تھی، اسی وجہ سے ریکارڈنگ نہیں ہو سکی۔ تاہم ذرائع کے مطابق معاملے نے کئی نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اہم شواہد غائب کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ملزمہ پنکی کا مبینہ آن لائن کوکین سپلائی نیٹ ورک اب بھی سرگرم ہے، البتہ کارروائیوں کے بعد اس کے کارندوں نے رابطے کے نمبرز تبدیل کر لیے ہیں۔

مبینہ طور پر منشیات خریدنے والوں کو پیغامات ارسال کیے گئے جن میں کہا گیا کہ میڈم پنکی کا سابقہ نمبر بند ہو چکا ہے اور اب سروس ان کے دوست فراہم کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مبینہ پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی میں چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کوکین دستیاب ہے۔ پیغامات میں گولڈن اسٹف پچیس ہزار روپے فی گرام جبکہ سلور اسٹف پندرہ ہزار روپے فی گرام فروخت کیے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ مبینہ خریداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ رقم اب فیاض کمیونی کیشنز کے اکاؤنٹ میں منتقل نہ کی جائے کیونکہ مذکورہ اکاؤنٹ بلاک ہو چکا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک نئے مالیاتی ذرائع اور رابطہ نمبرز کے ذریعے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ اور تفصیلی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس کیس اور مبینہ منشیات نیٹ ورک سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles