
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات صرف اسی صورت میں آگے بڑھیں گے جب معاہدہ امریکا کے لیے فائدہ مند ہو۔ ان کے مطابق ایران کے فوجی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے اور صورتِ حال جلد بہتر نتائج دے گی۔
صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے معاملے میں امریکا کے پاس واضح انتخاب تھا، یا تو ایسے عناصر کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے دیا جائے یا اس عمل کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی ایران کو جوہری ہتھیار دینے کے حق میں ہوگا وہ غیر دانش مندانہ سوچ رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ صرف ایک اچھا اور فائدہ مند معاہدہ کرے گا اور اس سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران کا فوجی ڈھانچہ شدید نقصان کا شکار ہے اور تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ وہ یہ نہیں بتائیں گے کہ بات چیت کب ختم ہوگی، تاہم ان کے مطابق امریکا ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے جو امریکی عوام کے لیے فائدہ مند ہوگا، جب کہ ان کے خیال میں اس کے اثرات ایرانی عوام کے لیے بھی مثبت ہو سکتے ہیں۔
معاشی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جیسے ہی یہ جنگ ختم ہوگی، تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور اسٹاک مارکیٹ جو پہلے ہی تاریخی سطح پر ہے مزید اوپر جائے گی۔ انہوں نے سابق صدر جو بائیڈن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھی، جب کہ موجودہ صورتِ حال میں افراطِ زر نسبتاً کم ہے۔
ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ شی جن پنگ کے حوالے سے کہا کہ وہ ایران کے معاملے میں نسبتاً مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا اور چین کی آئندہ ملاقات میں ایران سمیت دیگر امور پر تفصیلی بات ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کو ایران کے معاملے میں کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہے اور یا تو ایران درست فیصلہ کرے گا یا پھر امریکا خود کام مکمل کرے گا۔