امریکی محکمہ جنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلائی مخلوق سے متعلق دہائیوں پرانے خفیہ دستاویزات اور تصاویر عوام کے لیے جاری کر دی گئی ہیں۔ ہم نے سچ سامنے رکھ دیا ہے، اب عوام خود جو چاہیں فیصلہ کر لیں۔ یہ مواد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایک سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس ’اے پی‘ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے آسمان میں نظر آنے والے پراسرار مناظر سے متعلق نئی فائلوں کا اجرا کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان ریکارڈز کے ذریعے عوام کو موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ خود اس حوالے سے دستیاب معلومات کا جائزہ لے کر اپنی رائے قائم کریں۔
اس عمل میں صرف محکمہ دفاع ہی نہیں بل کہ وائٹ ہاؤس، قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر، محکمہ توانائی، خلائی تحقیق کا ادارہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی شامل ہیں۔
محکمہ دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے بعض معلومات کو کم اہم ظاہر کرنے یا عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تاہم موجودہ انتظامیہ عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ شفافیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بیان کے مطابق مزید دستاویزات مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کا عندیہ فروری سے دینا شروع کیا تھا۔ وہ اس سے قبل بھی اہم شخصیات کے قتل سے متعلق ریکارڈز جاری کر چکے ہیں، جن میں سابق صدر جان ایف کینیڈی، سینیٹر رابرٹ ایف کینیڈی اور شہری حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر سے متعلق دستاویزات شامل ہیں، تاہم ان میں زیادہ تر وہی معلومات سامنے آئیں جو پہلے سے معلوم تھیں۔
محکمہ دفاع گزشتہ کئی برسوں سے نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق ریکارڈز کو غیر خفیہ کرنے پر کام کر رہا ہے، جب کہ امریکی کانگریس نے 2022 میں اس مقصد کے لیے ایک خصوصی دفتر قائم کیا تھا۔ 2024 کی ایک رپورٹ میں سیکڑوں نئے واقعات کا ذکر کیا گیا، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ امریکی حکومت نے کسی بھی مرحلے پر خلائی مخلوق یا ان کی ٹیکنالوجی کی تصدیق کی ہو۔
کانگریس نے 2022 میں پینٹاگون کو ہدایت دی تھی کہ دہائیوں پرانے ایسے تمام ریکارڈز کو عوام کے لیے جاری کیا جائے، کیونکہ بعض فوجی اہلکاروں نے غیر واضح فضائی مشاہدات کی رپورٹس دی تھیں۔

دوسری جانب بعض ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے مزید شفافیت کا مطالبہ کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پینٹاگون بعض دستاویزات کو روک رہا ہے۔ ایک رکن اسمبلی کی جانب سے مارچ میں 46 ویڈیوز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ مرحلے میں جاری کی جا سکتی ہیں۔
ریپبلکن رکنِ کانگریس نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شفافیت کے وعدے کو پورا کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام معلومات ایک ساتھ جاری نہیں کی جا سکتیں بل کہ یہ عمل وقت کے ساتھ مکمل ہوگا۔
ماہرین نے ان فائلوں کے اجرا کے حوالے سے احتیاط کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ نامعلوم فضائی مظاہر کی ویڈیوز اکثر غلط تشریح کا شکار ہو جاتی ہیں۔ 2024 کی سرکاری رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ اب تک کسی بھی غیر زمینی ٹیکنالوجی یا خلائی مخلوق کے وجود کے شواہد نہیں ملے۔