صرف ایک ڈالر میں گھر کا سارا کام کرنے والی ملازماؤں کی دھوم, گھریلو خواتین میں ہلچل مچ گئی

بھارت میں گھر کے کام کاج کے لیے سستی ملازمائیں فراہم کرنے والی ایک نئی آن ڈیمانڈ سروس تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، جس میں لوگ صرف چند منٹوں یا گھنٹوں کے لیے گھریلو کام کروانے کے لیے ایپس کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس سروس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی قیمت بہت کم رکھی گئی ہے، بعض جگہ یہ تقریباً 1 ڈالر فی گھنٹہ تک بھی دستیاب ہے۔

بھارت میں گھریلو کام کروانے کی روایت پہلے ہی مضبوط ہے، اور اب اسٹارٹ ایپس جیسے پرونٹو، اسنیبیٹ اور اربن کمپنی ہزاروں گھریلو مددگاروں کو تربیت دے رہے ہیں۔

اندازے کے مطابق بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صفائی اور ہوم سروس مارکیٹ کی مالیت تقریباً 9 ارب ڈالر ہے، جو 5 کروڑ 30 لاکھ گھروں پر مشتمل ہے۔

یہ کمپنیاں خواتین کو صفائی اور دیگر گھریلو کاموں کی تربیت دے کر مختلف گھروں میں بھیجتی ہیں اور کام مکمل طور پر ایپ کے ذریعے منظم کیا جاتا ہے۔۔

یہ کارکن ایپس کے ذریعے کام حاصل کرتے ہیں، جس میں انہیں قریبی علاقوں کے گھروں میں بھیجا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے اوبر ڈرائیورز کو رائیڈز ملتی ہیں۔ کام شروع کرنے سے پہلے وہ اپنی ایپ میں ایک ٹائمر بھی آن کرتے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان ایپس پر کام کرنے والی خواتین ماہانہ 5 ہزار ڈالر تک کما سکتی ہیں، جو بھارت کی اوسط فی کس آمدنی سے کہیں زیادہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اشتہارات میں ایسی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں جہاں صارفین نے ہلکے پھلکے کاموں کے لیے بھی ہیلپر بک کیے، جیسے آلو چھیلنا یا لیگو کے بلاکس کو رنگوں کے مطابق الگ کرنا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سروس اب روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لیے بھی استعمال ہو رہی ہے۔

کچھ کمپنیاں فیس بک پر محض چند روپوں کے عوض وزٹ کی پیشکش کر رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کسٹمرز کو راغب کیا جا سکے۔ ، جن میں نعرہ درج ہے: ’اگر ماسی چھٹی پر ہے تو پریشان نہ ہوں‘۔

تاہم اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ کچھ مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خواتین کارکنوں کی حفاظت ایک بڑا سوال بن کر سامنے آئی ہے۔

ای کامرس کمپنیوں کے برعکس، جہاں ڈلیوری بوائے صرف دروازے پر آتا ہے، ان ہاؤس کیپنگ ایپس میں خواتین کو گھنٹوں اجنبیوں کے گھروں کے اندر رہنا پڑتا ہے۔ بھارت میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی ہراسانی کے واقعات کے پیشِ نظر یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔

اسی لیے ایپ میں ایک ہنگامی بٹن دیا گیا ہے جو کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری طور پر سپروائزر کو مطلع کرتا ہے۔ ’پرونٹو‘ جیسی کمپنیاں اپنی ورکرز کو سیلف ڈیفینس کی تربیت بھی دے رہی ہیں۔

کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ ورکرز کی مکمل چھان بین کرتی ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسٹمرز کی اسکریننگ کا بھی کوئی طریقہ کار ہونا چاہیے۔
خواتین کے حقوق کی کارکن نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ملازمتیں خواتین کے لیے محفوظ کیسے ہو سکتی ہیں، چاہے ان میں SOS بٹن ہی کیوں نہ موجود ہو؟

ان کا کہنا تھا کہ جب تک کارکن اپنے ساتھ کیمرے نہ رکھیں ، اس وقت تک یہ معلوم کرنا ناممکن ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے کیا ہوتا ہے۔

دوسری جانب پرونٹو کی ایک خاتون ورکر جیاسوار نے اپنی حفاظت کے لیے خود ایک طریقہ اختیار کیا ہے۔ وہ ہر گھر جانے سے پہلے گاہک کو فون کرتی ہیں اور صرف اس صورت میں کام پر جاتی ہیں جب گھر میں کوئی خاتون موجود ہو۔

اس ماڈل میں کمپنیوں کو مالی دباؤ کا بھی سامنا ہے کیونکہ کم قیمتوں اور بڑی رعایتوں کی وجہ سے انہیں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

تیزی سے ترقی کرنے والے دیگر اسٹارٹ ایپس کی طرح یہ کمپنیاں بھی اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے کارکنوں کو اپنی جیب سے ادائیگیاں کر رہی ہیں تاکہ نوکریاں زیادہ پرکشش بن سکیں، ساتھ ہی صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے بڑی رعایتیں بھی دی جا رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، اربن کمپنی کو ہر آرڈر پر اوسطاً 381 روپے کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ وہ اپنے ورکرز کو کسٹمر سے وصول کی گئی رقم سے زیادہ معاوضہ دے رہی ہیں۔ تاہم سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ وقت کے ساتھ یہ نظام منافع بخش بن سکتا ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سستی سروس ہمیشہ برقرار نہیں رہے گی اور جیسے ہی یہ کمپنیاں مستحکم ہوں گی، قیمتوں میں اضافہ کر دیا جائے گا۔

فی الحال، یہ اسٹارٹ ایپس ان ہزاروں خواتین کے لیے امید کی کرن ہیں جو روایتی کم تنخواہ والی ملازمتوں کو چھوڑ کر باعزت اور مستحکم آمدنی کی تلاش میں اس ڈیجیٹل میدان میں آئی ہیں۔

دوسری طرف، اس شعبے میں کام کرنے والی خواتین کے لیے یہ روزگار کا ایک نیا موقع بھی ہے۔ کچھ کارکنوں کے مطابق یہ کام پہلے کے مقابلے میں زیادہ آمدنی دے سکتا ہے، اگرچہ اس کے لیے سخت محنت اور کئی گھروں میں کام کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت میں سستی اور فوری گھریلو خدمات کی یہ نئی لہر تیزی سے پھیل رہی ہے، لیکن اس کے ساتھ حفاظت، پائیداری اور منافع جیسے بڑے چیلنج بھی موجود ہیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles