ایران میں لاپتہ امریکی پائلٹ مل گیا، ریسکیو آپریشن کے دوران شدید جھڑپ

ایران کے اندر گرنے والے امریکی جنگی طیارے ایف-15 ای کے عملے کو بچانے کے لیے جاری آپریشن کے حوالے سے نئی اور سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لاپتہ ہونے والے دوسرے پائلٹ یا عملے کے رکن (ایئرمین) کو تلاش کر لیا گیا ہے، تاہم اسے ابھی تک باحفاظت ایرانی حدود سے باہر نہیں نکالا جا سکا ہے۔

ایران کے صوبے کہگیلویہ و بویراحمد کے شہر دہشت میں امریکی فورسز نے اپنے دوسرے لاپتہ پائلٹ کو بچانے کے لیے ایک انتہائی بڑا اور خطرناک آپریشن کیا ہے۔

رات بھر جاری رہنے والے اس ریسکیو آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران کم از کم چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص زخمی ہے، تاہم غیر سرکاری اطلاعات بتاتی ہیں کہ جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

اگرچہ ان مسلح جھڑپوں کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، لیکن دہشت کے گردونواح میں ہونے والی ہلچل سے یہ واضح تھا کہ امریکی کمانڈوز پائلٹ کو بازیاب کرانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے تھے۔

یہ صورتحال اس لیے بھی پیچیدہ تھی کیونکہ گزشتہ دو دنوں سے ایرانی حکام بھی اس پائلٹ کی تلاش میں مصروف تھے اور انہوں نے عام شہریوں کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔

ایرانی حکام نے پائلٹ کا سراغ لگانے والے کسی بھی شہری کے لیے بڑے انعام کا اعلان کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے مقامی آبادی بھی اس تلاش میں سرگرم تھی۔

لیکن اسی دوران امریکی ٹیموں نے ’سرچ اینڈ ریسکیو‘ مشن کے تحت پائلٹ تک پہنچنے کی کوشش کی۔

امریکی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ اگرچہ لاپتہ اہلکار کو ڈھونڈ نکالنا ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن ریسکیو ٹیم کے لیے اصل چیلنج اسے بحفاظت ایران سے باہر نکالنا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ بازیاب کرایا گیا اہلکار مرد ہے یا خاتون، کیونکہ امریکی فوجی اصطلاح میں ’ایئرمین‘ کا لفظ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

الجزیرہ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس وقت بھی ایرانی حدود میں شدید لڑائی جاری ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف اس اہلکار بلکہ اسے بچانے والی ٹیم کی زندگیوں کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔

یہ آپریشن اس وقت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو گیا ہے کیونکہ امریکی فورسز کو دشمن کے علاقے سے بحفاظت نکلنے (ایکس فلٹریشن) کے لیے سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔

پینٹاگون کے ذرائع کے مطابق پائلٹ کو بازیاب کرانے والی ٹیم اب بھی ایرانی حدود کے اندر ہی موجود ہے اور محفوظ مقام تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب تک یہ ٹیم اور پائلٹ ایرانی سرحد پار نہیں کر لیتے، اس مشن کو مکمل نہیں قرار دیا جا سکتا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles