
برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ برطانیہ ایران سے متعلق جاری تنازع میں براہ راست شامل نہیں ہوگا اور نہ ہی وہاں فوج تعینات کی جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو عالمی اور برطانوی معیشت کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کو اس جنگ میں گھسیٹنے نہیں دیا جائے گا اور ملک کسی صورت اس تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ برطانیہ کی جنگ نہیں ہے اور نہ ہی برطانیہ کا اس سے کوئی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کو محفوظ رکھنا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم مستقبل یقینی بنانا ہے۔
کیئر اسٹارمر نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا خاتمہ نہ ہوا تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر پڑیں گے، جس سے برطانیہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور سفارتی سطح پر امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم واضح کیا کہ برطانیہ کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل نہیں ہوگا۔