امریکا کے سوا کوئی گرین لینڈ کی حفاظت نہیں کرسکتا: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگِ عظیم دوئم میں ڈنمارک چند گھنٹوں میں جرمنی سے ہارگیا تھا، مگر گرین لینڈ اور ڈنمارک کو امریکا نے بچایا۔ ٹرمپ کے مطابق آج امریکی فوج، بیٹل شپس اور میزائل سسٹمز ماضی سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایکشن لیا گیا تو گرین لینڈ میں گولڈن ڈوم میزائل سسٹم ہوگا اور برف کے اس ٹکڑے پرمیزائل اڑتے نظر آئیں گے۔

ڈیووس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ اکنامکس فورم (ڈبلیوای ایف) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پہلے برباد ہونے کے قریب تھا، لیکن اب ملکی برآمدات 150 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں اور فیکٹری کنسٹرکشن میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے تاریخی تجارتی معاہدوں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں چین پر سبقت حاصل کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ مصنوعی ذاہنت پلانٹس سے امریکا اپنی توانائی کو دگنا کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے گرین انرجی کو ایک بڑا منصوبہ قرار دیا اور کہا کہ وہ یورپ کو عظیم بنتے دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم موجودہ ونڈ ملز کے باوجود کئی جگہیں ناکام ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کی وجہ سے گرین لینڈ کی ضرورت ہے اور کوئی قوم یا گروپ آف نیشن اس کی حفاظت نہیں کر سکتا، صرف امریکا ہی اسے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اتنا طاقت ور ہے کہ لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے اور وینزویلا سمیت عالمی مسائل میں امریکا کی قیادت ناگزیر ہے۔

انہوں نے تاریخی حوالوں کے ساتھ بتایا کہ جنگ عظیم دوئم میں ڈنمارک 6 گھنٹے میں جرمنی کے سامنے ہار گیا، لیکن امریکا نے بعد میں گرین لینڈ اور ڈنمارک کی حفاظت کی۔ جرمنی، جاپانی، اٹلی کو شکست دے کر ہم نے انہیں ڈنمارک واپس دلوایا، ہم کتنے بے وقوف تھے، اب وہ کتنے ناشکرے ہیں اب دو آپشن ہیں یا کہیں ’ہاں‘ یا ’نہ‘۔

صدرٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا آج اپنی فوج، بیٹلشپس اور میزائل سسٹمز میں ماضی سے 100 فیصد زیادہ طاقت ور ہے اور اگر ضرورت پڑی تو گرین لینڈ میں گولڈن ڈوم میزائل سسٹم قائم کرے گا۔ ہم نے ایکشن لیا تو برف کے اس ٹکڑے پر میزائل اڑ رہے ہوں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سمیت 8 جنگیں روکیں اور گرین لینڈ کے لیے طاقت استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ آئندہ بیان دینے سے پہلے یاد رکھو کینیڈا امریکا کی وجہ سے ہے، اسرائیل کا آئرن ڈوم ہماری ٹیکنالوجی ہے، نیٹو اور یورپی نیشن کو کھربوں ڈالرز دیے.

صدر ٹرمپ نے خطاب میں مزید کہا کہ ہم ایف 47 بنا رہے ہیں، یہ بی ٹو بمبر کی طرح اسٹیلتھ ہوگا، یہ ایران اور دیگر ممالک پر خاموشی سے پرواز کرسکتا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران امریکی صدر نے فرانس کے صدر پر بھی طنز کیا کہ میکرون نے کل بڑے خوب صورت سن گلاسز لگائے ہوئے تھے۔ یہ کیا ہورہا ہے؟ ہمیں کسی ملک سے یہ کہلوانے میں 3 منٹ لگتے ہیں کہ ’نہیں نہیں میں یہ کررہا ہوں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles