
یمن میں حوثی باغیوں کے وسطی صوبے ماریب اور مشرقی صوبے حضرموت میں میزائل اور ڈرون حملوں میں یمنی فوج کے کم از کم 38 فوجی ہلاک جب کہ 29 زخمی ہو گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق طبی ذرائع نے جمعرات کے روز ہونے والے ان حملوں میں اب تک 38 فوجیوں کی ہلاکت جب کہ 29 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم اس تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایک فوجی عہدیدار نے بتایا کہ حوثیوں نے وسطی صوبے ماریب کے علاقے الرویک پر میزائل حملے میں ایک فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع صوبہ حضرموت کے علاقوں العبر اور الودیعہ میں واقع فوجی کیمپوں پر بھی حملے کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ایک اور فوجی ذریعے نے بتایا کہ ماریب کے کیمپ پر حملہ اس وقت کیا گیا جب فوجی صبح کی پریڈ اور حاضری کے لیے جمع تھے۔ ان کے مطابق اس حملے میں کم از کم 45 اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق حوثی گروپ نے ماریب اور حضرموت کے علاقوں الرویک، العبر اور الثنیہ میں مختلف مقامات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق حملوں میں سعودی حمایت یافتہ سیکڑوں جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے، جب کہ فوجی کیمپ، اسلحہ ڈپو اور فوجی گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔
حوثی گروپ نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ کارروائی ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ممکنہ فوجی کارروائی سے قبل سعودی فوج کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت اور تعیناتی کا علم ہونے پر کی گئی۔
دوسری جانب یمن کے وزیرِ صحت قاسم باہیبہ نے ماریب اور حضرموت کے تمام طبی مراکز کو زخمی فوجیوں کے علاج کے لیے ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ قاسم باہیبہ نے حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نشانہ بننے والے فوجی ٹھکانے الرویک اور العبر کے علاقوں میں تعینات تھے۔
واضح رہے کہ یمن ایک دہائی سے زائد عرصے سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا اور اس وقت بھی صنعاء اور شمالی یمن کے بڑے حصے پر ان کا کنٹرول ہے جب کہ جنوبی یمن کے بیشتر علاقوں پر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا کنٹرول ہے اور سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرتا ہے۔
گزشتہ ماہ یمن کی سرکاری فوج اور حوثی باغیوں کے درمیان ایک بار کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب صنعا ایئرپورٹ پر ایرانی جہاز کی لینڈنگ کے وقت فضائی حملے ہوئے جس کی ذمہ داری یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے قبول کی تھی تاہم حوثی باغیوں نے ان حملوں کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہرایا تھا۔
صنعا ایئرپورٹ پر حملوں کے ردِعمل میں حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملے اور بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ ان واقعات کے بعد سے یمن کی سرکاری افواج اور حوثیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں جس نے 4 سال سے جاری جنگ بندی کے ماحول کو شدید خطرے میں ڈال رکھا ہے۔