
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے عبوری حکمران امریکا کو تیس سے پچاس ملین بیرل تیل فراہم کریں گے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تیل مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جائے گا اور اس فروخت سے حاصل ہونے والی رقم ان کے کنٹرول میں ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اس رقم کا استعمال امریکا اور وینزویلا دونوں کے عوام کے فائدے کے لیے کیا جائے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وینزویلا سے تیل براہ راست امریکا منتقل کیا جائے گا اور اس حوالے سے امریکی وزیر تجارت کو معاہدے پر عمل درآمد کرانے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وینزویلا سے آنے والا تیل امریکا کی مختلف ریفائنریز کو فروخت کیا جائے گا، جس سے امریکی توانائی کے شعبے کو فائدہ پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے دسمبر کے وسط سے وینزویلا پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کے باعث وینزویلا کی معیشت اور تیل کی برآمدات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔
مبصرین کے مطابق اس مجوزہ انتظام سے امریکا کو توانائی کی فراہمی میں بہتری آ سکتی ہے جبکہ وینزویلا کے لیے بھی محدود مالی وسائل تک رسائی ممکن ہو سکتی ہے، تاہم اس پر مختلف حلقوں میں سوالات اور تحفظات بھی پائے جاتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق توقع ہے کہ امریکی ریفائنریز کے سربراہان جمعرات کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے، جہاں وینزویلا میں سرمایہ کاری اور تیل کی خرید و فروخت سے متعلق معاملات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔