
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی امریکی کوششوں کے نتیجے میں خطے کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں امریکی افواج اور ایرانی فورسز کے درمیان تصادم کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کے روز تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والی چھ ایرانی چھوٹی کشتیوں کو فائرنگ کر کے تباہ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا نے سویلین کشتہوں کو نشانہ بنایا جن میں پانچ عام شہری مارے گئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ جن کشتیوں کو امریکا نے نشانہ بنایا وہ فوجی نہیں بلکہ سویلین کشتیاں تھیں جن پر سامان اور مسافر سوار تھے۔
اس کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نے ایران پر جنگ بندی کی خلاف ورزی اور میزائل حملوں کا الزام عائد کیا۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی طرف سے مبینہ طور پر فائر کیے گئے 15 میزائلوں اور چار ڈرونز کو فضا میں ہی ناکارہ بنایا۔
اس دوران مشرقی خلیجی امارت فجیرہ میں ایک ڈرون حملے سے تیل کی تنصیب میں آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں تین بھارتی شہری زخمی ہوئے۔
تاہم، ایران نے ان حملوں یو اے ای پر حملوں کی تردید کرتے ہوئے انہیں امریکی مہم جوئی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
اس دوران آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے ایک تجارتی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔ امریکا نے اس کارروائی کا الزام ایران پر عائد کیا۔
جس کے بعد صدر ٹرمپ نے خواہش کا اظہار کیا کہ جنوبی کوریا آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو نکالنے کے لیے امریکی آپریشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ میں حصہ لے۔ خبر راسں ایجنسی رائٹرز کے مطاقب جنوبی کوریا صدر ٹرمپ کی اس درخواست پر غور کر رہا ہے۔
ایرانی فوجی کمانڈ نے دھمکی دی ہے کہ جو بھی غیر ملکی فوج، خاص طور پر جارح امریکی فوج، آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کرے گی، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان کردہ ’پراجیکٹ فریڈم‘ آبنائے ہرمز میں کئی ہفتوں سے پھنسے سیکڑوں تجارتی جہازوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے شروع کیا جا رہا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بارودی سرنگوں سے پاک ایک راستہ کامیابی سے کھول دیا ہے اور اس دوران دو امریکی پرچم بردار جہاز وہاں سے گزر چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی بحریہ کے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کو ”زمین کے نقشے سے مٹا دیا جائے گا“۔
ادوسری جانب برطانوی میری ٹائم ایجنسی نے اماراتی ساحلوں کے قریب دو مال بردار جہازوں میں آگ لگنے کی اطلاع دی ہے، جبکہ عمان میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنائے جانے سے دو غیر ملکی مزدور زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان، بھارت، کینیڈا، برطانیہ، سعودی عرب، کویت اور یورپی یونین سمیت دنیا بھر کے ممالک نے متحدہ عرب امارات پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا حل نکالیں۔