
پشاور میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما صنم جاوید کو نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر اغوا کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ سول آفیسر کالونی کے قریب پیش آیا، جہاں صنم جاوید کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے جایا گیا۔
تھانہ شرقی پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کرلی ہے، جس میں نامعلوم افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق صنم جاوید اپنی ساتھی حرا بابر ایڈووکیٹ کے ہمراہ ایک ہوٹل سے واپس آرہی تھیں جب راستے میں ان کی گاڑی کو روکا گیا۔
حرا بابر ایڈووکیٹ نے اپنی مدعیت میں درج مقدمے میں بتایا کہ ’صنم جاوید نے مجھے عشائیے پر مدعو کیا تھا، ہم دونوں ہوٹل سے واپس آرہے تھے کہ اچانک کچھ افراد نے گاڑی روکی اور صنم جاوید کو زبردستی ساتھ لے گئے۔‘
حرا بابر کے مطابق موقع پر موجود سیکورٹی اہلکاروں نے مدد کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔
ترجمان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر صنم جاوید کے مبینہ اغوا کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ نے واقعہ کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور صنم جاوید کے اغوا میں ملوث نامعلوم افراد کی گرفتاری کے لئے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی۔
زیراعلیٰ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ غیر قانونی عمل میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی، خیبرپختونخوا حکومت صنم جاوید کو مکمل انصاف دلانے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لا رہی ہے، صوبے میں انصاف، قانون اور عزتِ نفس کی حفاظت نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت کی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے، تاہم اب تک صنم جاوید کی بازیابی عمل میں نہیں آسکی۔
پشاور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور اغوا کاروں کی شناخت کے لیے قریبی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی جارہی ہیں۔