
نیویارک کے میئرشپ کے ڈیموکریٹ امیدوار اور رکنِ اسمبلی زہران ممدانی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس میں انہوں نے معروف پاکستانی انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی شاعری کو خراجِ تحسین پیش کیا اور انکی ایک مشہور و معروف نظم کے چند اشعار پڑھے۔
انہوں نے کہا، ’میں روز فیض کو پڑھتا ہوں۔ سب کو اُنہیں پڑھنا چاہیے۔ کیونکہ جب ہم اقتدار میں آتے ہیں تو خود کو دائروں میں محدود کر لیتے ہیں۔ پھر ہماری سوچ اور اعمال چھوٹے ہو جاتے ہیں۔‘
یویارک میں میئرشپ کے ڈیموکریٹ امیدوار زہران ممدانی بھی فیض احمد فیض کی شاعری کے مداح نکلے، تقریب سے خطاب کی ویڈیو وائرل ہوگئی،تقریب سے خطاب میں زہران ممدانی نے کہا تھا کہ وہ فیض کی شاعری روز پڑھتے ہیں۔ سب کو فیض کو پڑھنا چاہیے کیونکہ اکثر جب ہم اقتدار میں آتے ہیں تو اپنے آپ کو دائروں میں محدود کرلیتے ہیں پھر بطور لیڈر ہماری سوچ اور اعمال چھوٹے ہوجاتے ہیں
یہ بیان انہوں نے ایک تقریب میں خطاب کے دوران دیا، جسے امریکی پاکستانی نژاد پولیس ایسوسی ایشن (APAG) نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔ ان کے اس بیان کو سراہا جا رہا ہے، خاص طور پر وہ حلقے جو ادب، سیاست اور معاشرتی شعور کو یکجا کرنے کے قائل ہیں۔
تقریب میں زہران ممدانی نے فیض کی معروف نظم ’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘ پیش کی۔ یہ نظم حق گوئی، آزادیٔ رائے اور جبر کے خلاف مزاحمت کا طاقتور استعارہ ہے۔ اس کے اشعار دہائیوں سے سماجی تحریکوں اور عوامی بیداری کا حصہ رہے ہیں، اور آج بھی نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں کو حوصلہ دیتے ہیں۔
View this post on Instagram
زہران ممدانی کا فیض سے لگاؤ صرف شاعری کی محبت نہیں بلکہ ایک سیاسی وژن کی عکاسی بھی ہے۔ ان کے نزدیک قیادت محض پالیسی یا اختیار کا نام نہیں بلکہ انصاف پسندی، وسیع النظری اور عوامی خدمت کا وعدہ ہے۔ فیض کی شاعری انہیں یاد دلاتی ہے کہ اقتدار میں آ کر بھی حق اور سچ بولنے کا حوصلہ برقرار رہنا چاہیے۔
موجودہ دور میں سیاستدانوں کا شاعری اور ادب سے رہنمائی لینا ایک نایاب رویہ ہے۔ زہران ممدانی کی یہ مثال اس بات کا ثبوت ہے کہ جب سیاست اور ادب یکجا ہو جائیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
فیض کی وہ نظم جو سب سے زیادہ انقلابی جذبے، عوامی امنگوں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی ہے، اہلِ ذوق کے لئے یہاں پیش کی جارہی ہے۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول کہ جاں اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہن گر کی دکاں میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دہانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول جو کچھ کہنا ہے کہہ لے
زہران ممدانی کی جانب سے فیض کا ذکر صرف ایک شاعر کی تعریف نہیں بلکہ ایک سیاسی وژن کی نمائندگی ہے، جس میں قیادت صرف پالیسی یا اختیار کا نام نہیں بلکہ سوچ کی وسعت، انصاف پسندی، اور سماجی شعور کا آئینہ دار ہوتی ہے۔
ان کا بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اقتدار کو عوامی خدمت اور خود احتسابی کے ساتھ جوڑتے ہیں، اور فیض احمد فیض کی شاعری اُن کے لیے نظریاتی روشنی کا ذریعہ ہے۔
ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ سیاستدان شاعری سے رہنمائی لیتے دکھائی دیں، زہران ممدانی کی یہ مثال بتاتی ہے کہ ادب اور سیاست جب ایک ہو جائیں تو معاشرے کو بدلنے کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔