
امریکہ نے پاک بھارت کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام سے رابطہ کیا ہے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی تلقین کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے بھارت اور پاکستان کے قومی سلامتی مشیروں سے بات چیت کی ہے اور دونوں ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’رابطے کے ذرائع کھلے رکھیں اور کشیدگی سے گریز کریں‘۔
ٹرمپ نے بھارتی شر انگیزی کو شرمناک قرار دے دیا
امریکی محکمہ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ مارکو روبیو صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک سے ’’پرامن حل‘‘ کی جانب بڑھنے پر زور دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ حالیہ بھارتی جارحیت کے بعد خطے میں تناؤ کی فضا ہے، جس پر عالمی برادری بھی متحرک نظر آ رہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں اور فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
بھارت نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب پاکستان کے 6 مقامات پر میزائل داغ دیئے جس کے فوری بعد پاکستان نے جوابی کارروائی شروع کر دی۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے بھارتی فوج کے ایک بریگیڈ ہیڈکوارٹرز کو تباہ کردیا ہے اور اس کے 5 طیارے مار گرائے ہیں جن میں 3 رافیل بھی شامل ہیں۔
امارات کا پاک بھارت کشیدگی پر اظہار تشویش: شیخ عبداللہ بن زاید کی فریقین کو تحمل اور مذاکرات کی تلقین
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی کو کم کریں اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو خطے اور دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہو۔
اماراتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ عبداللہ بن زاید نے اس بات کو دوہرایا کہ سفارتکاری اور بات چیت ہی بحرانوں کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں، اور یہی راستہ اقوام کو امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ خواب کی جانب لے جا سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات بین الاقوامی امن کے قیام اور خطے میں استحکام کی ہر کوشش کی حمایت جاری رکھے گا، اور تمام فریقین کو تحمل اور تدبر سے آگے بڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔