اختر مینگل کا لکپاس دھرنا ختم کرنے کا اعلان


بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے لکپاس میں جاری تین ہفتے طویل دھرنے کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب احتجاج نئی شکل میں جاری رہے گا، اور بلوچستان بھر میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔
اختر مینگل نے کہا کہ بی این پی کا مؤقف بدستور واضح ہے اور ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی تمام خواتین کارکنوں کی رہائی کے مطالبے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ثناء اللہ خان مستی خیل کے خلاف کارروائیوں پر احتجاج، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ارکان کا اجلاس منعقد کرنے سے انکار
انہوں نے حکومت کی جانب سے لانگ مارچ کو کوئٹہ میں داخلے کی اجازت نہ دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
یاد رہے کہ بی این پی-ایم اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر خواتین کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف دھرنا ریلی کی شکل میں وڈھ سے شروع ہو کر لکپاس تک پہنچا تھا، جہاں شرکاء نے کوئٹہ کی حدود میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجی کیمپ لگایا تھا۔
پیپلز پارٹی کی اختر مینگل اور بی این پی پر کڑی تنقید: دہشتگردی، بلیک میلنگ اور دوغلی سیاست کے الزامات
دھرنے کے دوران حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل کے بعد لکپاس میں ایک کثیر الجماعتی کانفرنس (ایم پی سی) منعقد کی گئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں قومی سلامتی کونسل کی حالیہ پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے تمام گرفتار خواتین اور دیگر کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
اختر مینگل نے اعلان کیا کہ احتجاجی تحریک کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا اور بلوچستان کے ہر ضلع میں عوامی سطح پر ریلیاں نکالی جائیں گی تاکہ عوامی دباؤ کے ذریعے حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles