غزہ میں قیامت صغریٰ : شوہر اور بچوں کی شہادت پر ماں کی دلخراش آہ و زاری

غزہ میں غم و الم کی داستانیں، شوہر اور بچے شہید ہونے کے بعد دکھی ماں کی آہ وزاری، کہا میرے بچوں نے خالی پیٹ روزہ رکھا، افطار سے پہلے شہید ہوگئے، سوال کیا عرب ممالک کہاں ہیں؟

عالمی میڈیا کے مطابق غزہ میں فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غم و الم کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ ایک مظلوم فلسطینی ماں نے اپنے شوہر اور بچوں کی شہادت پر درد بھری فریاد کرتے ہوئے کہا، ”میرے بچوں نے خالی پیٹ روزہ رکھا لیکن وہ افطار سے پہلے ہی شہید ہو گئے۔“

ماں نے بے بسی کے عالم میں آہ و بکا کرتے کرتےہوئے کہا کہ میرے بچے بھوکے مرگئے، میں خدا کی قسم کھاتی ہوں میرے بچوں نے سحری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میری بچی سحری کیے بغیر روزے کی حالت میں شہید ہوئی، وہ روز لوبیا اور دیگر بینز کھا کر تنگ آگئے تھے۔

دکھی ماں کا کہنا تھا کہ میرے بچے اور میرا شوہر مرچکے ہیں ، میں اپنے بچوں کے ساتھ سوئی ہوئی تھی
میں اپنے بچوں کو تلاش کرنے کے لیے بیدار ہوئی کہ دیکھا ، میرے شوہر اور بچے شہید ہوچکے تھے۔
اس نے کہا کہ
اے عرب ۔۔ بیدار ہوجاؤ، رحم کھاؤ
ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہی
اے عرب ۔۔ بیدار ہوجاؤ، رحم کھاؤ
ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہی
تمہارے خلاف بہترین کارساز ہے نیتن یاہو

یہ المناک واقعہ غزہ میں پیش آیا، جہاں قابض اسرائیلی فورسز کے حملوں میں روزانہ بے گناہ فلسطینیوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ معصوم بچوں کی لاشوں کو سینے سے لگائے یہ بے بس ماں دہائیاں دیتی رہی اور سوال کیا: ”عرب ممالک کہاں ہیں؟ کیا ہمارا کوئی مددگار نہیں؟“

غزہ میں جاری حملوں کے باعث ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جب کہ رہائشی علاقے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا جنگ بندی کا مطالبہ کر چکی ہیں، مگر عالمی برادری کی خاموشی فلسطینیوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں بھی فلسطینی عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles