
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا ایک تکنیکی مشن اسلام آباد میں آج (بروز پیر) سے پاکستان کی جانب سے موسمیاتی مزاحمت کے لیے اضافی 1.5 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی درخواست پر مذاکرات کا آغاز کر رہا ہے۔
مقامی انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ مذاکرات تین ہفتوں تک جاری رہیں گے، جس میں مذکورہ تکنیکی ٹیم منصوبہ بندی، خزانہ، موسمیاتی تبدیلی، پیٹرولیم، اور آبی وسائل کی اہم وزارتوں کے ساتھ ساتھ فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آفات سے نمٹنے والے اداروں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کرے گی۔
آئی ایم ایف کے اسلام آباد میں مقیم نمائندے ماہر بینیسی نے ان مشاورتی اجلاسوں کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ ملاقاتیں فروری کے آخر سے شروع ہو کر مارچ کے وسط تک جاری رہیں گی۔
آئی ایم ایف کہتا ہے ہم مزید پیسے دینے کیلئے تیار ہیں مگر ٹیکس ریفارمز کی جائیں، وزیر خزانہ
اخبار نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ متعلقہ حکام نے آئندہ بجٹ کے لیے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عوامی سرمایہ کاری کے انتظام کی تشخیص (C-PIMA) کے لیے دستاویزات تیار کی ہیں، جو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی پالیسی مشوروں کے مطابق ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ موسمیاتی مزاحمت اور موافقت کے لیے اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا ایک فیصد سالانہ سرمایہ کاری کرے، تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹا جا سکے اور اقتصادی ترقی کو برقرار رکھا جا سکے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرمایہ کاری سے قدرتی آفات کے جھٹکوں کے منفی اثرات کو ایک تہائی تک کم کیا جا سکتا ہے اور معیشت کی تیز تر بحالی ممکن ہے۔
7 ارب ڈالر قرض کی اگلی قسط؛ آئی ایم ایف مشن کے دورہ پاکستان کا شیڈول جاری
خیال رہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال اکتوبر میں آئی ایم ایف سے اپنے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (EFF) میں مزید 1.2 ارب ڈالر کی موسمیاتی مزاحمتی فنڈنگ کی درخواست کی تھی۔
آئی ایم ایف کے مطابق، پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے 2030 تک 348 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
آج سے شروع ہونے والے مذاکرات میں ان تمام امور پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی، تاکہ پاکستان کی موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط بنایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔