امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے بحیرۂ عمان میں ایران کی بحری ناکہ بندی کی مبینہ خلاف ورزی کرنے والے ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا ہے۔

خلیج عمان میں امریکی فوج نے ایران کی بندرگاہ سے روانہ ہونے والے ایک تجارتی کارگو جہاز کو میزائل حملے کا نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا۔ امریکی حکام کے مطابق جہاز کے عملے نے متعدد انتباہات کے باوجود ایران کی بحری ناکہ بندی توڑنے اور علاقائی پانیوں سے باہر نکلنے کی کوشش کی تھی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق امریکی فوجی طیارے نے جہاز کے پچھلے حصے پر انتہائی درست نشانہ لگانے والے ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں جہاز سمندر میں سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔

امریکی حکام نے بتایا کہ متاثرہ جہاز کا نام ایم وی ہُدا ہے، جو سینٹ کٹس اینڈ نیوس کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔ جہاز ایران کی ایک بندرگاہ پر قیام کے بعد علاقے سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔

سینٹکام کے مطابق امریکی فوج نے کارروائی سے قبل جہاز کے عملے کو متعدد مرتبہ خبردار کیا تھا اور انہیں ہدایت دی تھی کہ جہاز کے ان حصوں کو خالی کردیں جنہیں نشانہ بنایا جانا تھا۔ تاہم عملے کی جانب سے احکامات پر عمل نہ کیے جانے کے بعد امریکی فوجی طیارے نے جہاز کے پچھلے حصے کو نشانہ بنایا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ حملے کے نتیجے میں جہاز ناکارہ ہوگیا اور سمندر میں آگے سفر کرنے کے قابل نہیں رہا۔

ادھر ایرانی فوج نے ہفتے کی رات دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے علاقے میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ ایرانی فوج نے تاہم ان جہازوں کے پرچم یا ان کی منزل کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کے ایک فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بناتے ہوئے محدود پیمانے پر نئے حملے کیے ہیں۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں اس فوجی کارروائی کو معمولی قرار دیا تھا، تاہم امریکی صدر کی جانب سے حملوں کی تصدیق کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ٹرمپ کئی ہفتوں سے یہ کہتے آرہے تھے کہ وہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے کئی خطوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ امریکا تقریباً دو ماہ کے وقفے کے بعد ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی تعداد مارچ کے بعد سب سے زیادہ رہی۔ ایران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے امریکا پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کے باعث اس اہم سمندری گزرگاہ میں کشیدگی برقرار ہے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles