’امریکا کی کیفیت ہارتے ہوئے جواری جیسی ہے‘: باقر قالیباف کا جے ڈی وینس کے بیان پر طنز

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو مڈٹرم الیکشن میں شکست اور ایران جنگ سے متعلق بیان پر طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی نائب صدر نے مڈٹرم الیکشن میں ری پبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ ایران جنگ کے ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے ردعمل میں امریکی نائب صدر کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ان کا انداز ایسے جواری جیسا ہے جو مسلسل شکست کے بعد بھی کھیل کی میز سے اٹھنے کو تیار نہیں ہے۔

انہوں نے جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے یہی مؤقف صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کرنے کا بھی مشورہ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ طویل لیکچر دینے کے بجائے آپ یہی بات اپنے باس سے کیوں نہیں کہتے؟‘

باقر قالیباف کا یہ بیان جے ڈی وینس کی اس تفصیلی سوشل میڈیا پوسٹ کے ردعمل میں سامنے آیا ہے جس میں امریکی نائب صدر نے اعتراف کیا تھا کہ مڈٹرم الیکشن میں ری پبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ ایران جنگ ہے۔

جے ڈی وینس نے اپنے بیان میں کہا کہ مختلف ریاستوں میں ووٹرز کی شرکت توقعات کے مطابق یا بعض مقامات پر غیر معمولی طور پر اچھی رہی، تاہم اصل مسئلہ ووٹرز کی تعداد نہیں بلکہ ان کا انتخابی رجحان تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی ٹیم کے ایک ماہر ڈیٹا تجزیہ کار سے پوچھا کہ کیا ری پبلکن پارٹی کو حیران کن کامیابی مل سکتی ہے؟ جس پر مجھے بتایا گیا کہ اگرچہ نتائج انتخابی جائزوں سے بہتر ہو سکتے ہیں لیکن بڑی تعداد میں ایسے ووٹرز موجود ہیں جنہوں نے 2024 میں ٹرمپ اور وینس کو ووٹ دیا تھا اور اب وہ ناراض ہو کر ڈیموکریٹس کی حمایت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جے ڈی وینس نے اسی بیان میں یہ بھی کہا کہ انتخابی شکست کے بعد ری پبلکن پارٹی کے اندر اس کی وجوہات پر بحث اور اختلافات بھی سامنے آسکتے ہیں۔

انہوں نے ایک سروے کا بھی حوالہ دیا جس کے مطابق ایران جنگ کا خاتمہ، مہنگائی، مختلف امریکی مفادات اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی، یہ وہ مسائل تھے جن کی بنا پر ری پبلکن ووٹرز کی بڑی تعداد نے ڈیموکریٹس کو ووٹ دیا۔

اپنے بیان کے اختتام پر جے ڈی وینس نے ایک بار پھر واضح الفاظ میں تسلیم کہ ری پبلکن پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ ایران جنگ ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ روز اس بات کا اعتراف کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات پر اختلاف کیا جا سکتا ہے کہ جنگ کا فیصلہ درست تھا یا نہیں، لیکن کم از کم اس معاملے پر دیانت داری سے بات ہونی چاہیے۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles