ہیکرز نے فرانس کے بلڈ بینکس میں موجود خون کھولا دیا

فرانس میں سائبر حملے کا ایک غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ہیکرز نے بلڈ بینک میں خون اور پلازما محفوظ رکھنے والے فریزرز کے درجہ حرارت کی سیٹنگ تبدیل کرکے اسے منفی 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھا کر 110 ڈگری سینٹی گریڈ کر دیا۔ اس واقعے سے طبی مقاصد کے لیے محفوظ خون اور پلازما کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا، تاہم عملے کو بروقت الرٹس ملنے کے بعد خون کو دوسرے محفوظ ریفریجریٹرز میں منتقل کردیا گیا، جس سے اہم طبی ذخائر کو خراب ہونے سے بچا لیا گیا۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق فرانس کی وزارت صحت نے بدھ کو تصدیق کی کہ سائبر حملے میں تین علاقائی بلڈ بینکس کے کولڈ اسٹوریج رومز کی نگرانی اور درجہ حرارت کنٹرول کرنے والے نظاموں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ حملے کا مقصد بظاہر فریزرز کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھا کر ان میں محفوظ خون کی فراہمی کو نقصان پہنچانا تھا۔

فرانسیسی بلڈ ادارے (ای ایف ایس) کی ترجمان چارلی ڈوبوا نے بتایا کہ عملے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے خون کو محفوظ کرلیا۔ ان کے مطابق بلڈ بینکس میں چوبیس گھنٹے عملہ موجود رہتا ہے کیونکہ کسی بھی وقت خون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ فریزرز میں مسئلے سے متعلق الرٹس موصول ہونے پر عملے نے خون کو ایسے دوسرے ریفریجریٹرز میں منتقل کردیا جو متاثرہ نظام سے منسلک نہیں تھے۔

 (فرانس کے تین بلڈ بینکس بھی یورپ میں جاری فریزرز پر سائبر حملوں کا نشانہ بنے)
(فرانس کے تین بلڈ بینکس بھی یورپ میں جاری فریزرز پر سائبر حملوں کا نشانہ بنے)

فرانسیسی ہفت روزہ اخبار لا کانارڈ انشینے نے سب سے پہلے اس سائبر حملے کی خبر دی تھی۔ اخبار کے مطابق ہیکرز نے فریزرز کے درجہ حرارت کی سیٹنگ منفی 30 ڈگری سے تبدیل کرکے 110 ڈگری سینٹی گریڈ کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ درجہ حرارت تقریباً 230 ڈگری فارن ہائیٹ بنتا ہے۔

فرانس کی وزارت صحت کے مطابق بدھ تک متاثرہ آلات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرلیا گیا تھا، جبکہ حفاظتی اقدام کے طور پر ریفریجریٹرز تک ریموٹ رسائی بھی بند کردی گئی تھی۔

فرانس کے بلڈ بینکس پر یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ہفتے کے دوران یورپ میں انٹرنیٹ سے منسلک کولڈ اسٹوریج سسٹمز کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔

اس سے قبل آٹھ یورپی ممالک میں سپر مارکیٹوں کے فریزرز کو ہیک کیا گیا تھا، جن میں سویڈن، بیلجیم، لکسمبرگ اور ایسٹونیا کے بڑے ریٹیل اسٹورز بھی شامل تھے۔ اس حملے میں فریزرز کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا جو فارن ہائیٹ اسکیل میں 122 ڈگری بنتا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں محفوظ گوشت، ڈیری مصنوعات اور دیگر غذائی اشیا خراب ہوگئی تھیں۔

دونوں واقعات میں انٹرنیٹ سے منسلک کولڈ اسٹوریج سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم فرانس کے بلڈ بینکس میں عملے کی بروقت کارروائی کے باعث خون کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا، جبکہ سپر مارکیٹوں میں غذائی اشیا خراب ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

تازہ ترین

مزید خبریں :

Popular Articles