
امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج میں ووٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور نمائندوں کو رد کرتے ہوئے سینیٹ کا کنٹرول ڈیموکریٹک پارٹی کے حوالے کر دیا ہے۔ جس کے بعد صدر ٹرمپ کے بیانات میں تلخی آگئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل اور فاکس نیوز کو دیے گئے اپنے انٹرویوز میں تسلیم کیا ہے کہ ایران جنگ کے اثرات نے ریپبلکن امیدواروں کو نقصان پہنچایا اور انتخابات پر اثر ڈالا، تاہم انہوں نے تہران کے خلاف عسکری کارروائی کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بالکل درست قدم اٹھایا اور وہ آئندہ بھی ایسا ہی کریں گے۔
نارتھ کیرولائنا، اوہائیو، آئیووا، ٹیکساس، ساؤتھ کیرولائنا اور کنساس جیسی روایتی طور پر ریپبلکنز کی مضبوط سمجھی جانے والی ریاستوں میں ڈیموکریٹ امیدواروں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جہاں صدر ٹرمپ نے خود مہم چلائی تھی اور پارٹی نامزدگیوں کی حمایت کی تھی۔
ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث بڑھتے ہوئے اخراجات، مہنگائی اور سخت ٹریف پالیسیوں کے خلاف عوامی تشویش اس انتخابی الٹ پھیر کی بنیادی وجہ بنی ہے۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کا کنٹرول قائم ہونے کے بعد اب اپوزیشن کو انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے، کابینہ کی نامزدگیوں کو بلاک کرنے اور وفاقی ججوں کی تعیناتی کو روکنے کا قانونی اختیار حاصل ہو جائے گا۔
انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے ووٹرز سے بارہا اپیل کی تھی کہ وہ یہ سمجھ کر ووٹ دیں کہ ’ٹرمپ خود بیلٹ پیپر پر موجود ہیں‘، تاہم نتائج واضح ہونے کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی پالیسیوں کو شکست کی وجہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک لائیو ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اسے اپنے خلاف عوامی غصہ نہیں سمجھتے اور ان کی انتظامیہ نے معاشی حوالے سے عظیم ترین دو سال گزارے ہیں۔
انہوں نے اپنی ناکامی کی ذمہ داری پارٹی امیدواروں پر ڈالتے ہوئے کہا کہ امیدوار ووٹرز کو متحرک کرنے میں ناکام رہے اور وہ خود بیلٹ پیپر پر نہیں تھے، ورنہ لینڈ سلائیڈ فتح حاصل ہوتی۔
وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ نتائج کا ایک جزو تھی، لیکن انہوں نے تہران کے خلاف عسکری کارروائی کے فیصلے پر کسی پچھتاوے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بالکل درست اقدام اٹھایا تھا اور وہ اسے دوبارہ بھی کریں گے۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کے اندر ٹرمپ کی جانب سے ناکام امیدواروں کی سلیکشن اور عوامی تشویش کو نظر انداز کرنے پر شدید برہمی پائی جاتی ہے۔
صدر ٹرمپ کی حمایت یافتہ شخصیات جن میں ٹیکساس سے کین پیکسٹن، ساؤتھ کیرولائنا سے ڈارلین گراہم، نارتھ کیرولائنا سے مائیکل واٹلی اور جارجیا سے مائیک کولنز شامل تھے، کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
انتخابی نتائج کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’تھروتھ سوشل‘ پر ٹیکساس کے ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جو ڈیموکریٹ امیدوار گینا ہینوہوسا سے انتخاب ہار گئے تھے، اور انہیں صرف نام کا ریپبلکن قرار دیا۔
واشنگٹن میں بدلتی ہوئی تزویراتی اور سیاسی صورت حال کے بعد صدر ٹرمپ کو اپنی مدتِ صدارت کے بقایا حصے میں انتہائی کم سیاسی اثر و رسوخ کا سامنا رہے گا۔ اگرچہ انہوں نے ڈیموکریٹ رہنماؤ ں کے ساتھ مل کر کام کرنے اور کچھ معاملات پر اتفاقِ رائے حاصل کرنے کی مبہم خواہش ظاہر کی ہے، تاہم کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹک پارٹی کا وجود ٹرمپ کی قانون سازی، وفاقی بجٹ اور بیرونِ ملک جنگی اقدامات کے لیے شدید رکاوٹیں کھڑی کرے گا۔