
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے ملک میں سیاسی تناؤ کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے پاکستان اور اس کے بعد سیاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، فوج اور ریاست سب ہماری ہیں، جب کہ خیبرپختونخوا میں کسی فارورڈ بلاک کی موجودگی نہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اور جمہوریت کے مفاد میں تناؤ ختم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی بڑھانے کے بجائے حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے مولانا فضل الرحمان کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اپنی جماعت اور سیاست ہے، تاہم تقریر میں بعض الفاظ استعمال نہ کیے جاتے تو مناسب ہوتا۔ ان کے مطابق حکومتی نمائندوں کی جانب سے دیا گیا جواب بھی مناسب نہیں تھا۔
عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 8 اپریل کے بعد پہلی مرتبہ سلمان صفدر کی ان سے ملاقات ہوئی، ملاقاتیں بند ہونے کی وجہ سے اتنا بڑا تناؤ پیدا ہوا ہے اور کسی قیدی کو 10 دن تک اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق اگر ملاقاتیں جاری رہتیں تو حالات میں بہتری آتی، تناؤ پیدا نہ ہوتا اور ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت بھی نہ آتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی تحریکِ انصاف سے ملاقات کے لیے اپنا نام حتمی ہونے کی وہ پہلے ہی تردید کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے ملاقات کے لیے علامہ ناصر عباس کا نام تجویز کیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق آگاہ تھے، تاہم ملاقات میں زیادہ سیاسی گفتگو نہیں ہوئی۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ پارٹی بانی نے حکومت ختم ہونے پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کے لاپتا ہونے سے متعلق بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دونوں کا لاپتا ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔
ان کے مطابق سہیل آفریدی کی بازیابی کا کیس پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور معاملہ لارجر بینچ کو بھجوا دیا گیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کیس کی جلد سماعت ہوگی۔
بیرسٹر گوہر نے الزام عائد کیا کہ سیاسی انتقام عروج پر ہے اور جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بارہا واضح کر چکے ہیں کہ ان کا ساتھ ریاست اور پاکستان کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر سیاسی بہنوں کا جیل میں ہونا وہ گناہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات کے حل کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔
خیبرپختونخوا میں پارٹی کی اندرونی صورتِ حال سے متعلق بیرسٹر گوہر نے فارورڈ بلاک کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تمام ارکان اسمبلی پارٹی بانی کے ساتھ ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر کبھی ریاست مخالف بیانیے کی حمایت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت، فوج اور ریاست ہماری ہیں اور سب سے پہلے پاکستان ہے، اس کے بعد سیاست۔