
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے اعلیٰ فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو عہدے سے ہٹانے کی وجہ سامنے آگئی ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ اور خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹس کے مطابق بریٹ سلویا پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف میں ڈائریکٹر برائے اسٹریٹجی، پلانز اینڈ پالیسی کے عہدے پر تعینات تھے۔ انہیں خفیہ معلومات غیر مجاز طور پر افشا کرنے کے الزامات کے بعد عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق پینٹاگون کے ایک سینئر اہلکار نے دعویٰ کیا کہ جنرل سلویا سے صحافیوں کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے بارے میں پوچھ گچھ کے دوران تین مرتبہ پولی گراف ٹیسٹ لیا گیا، جن میں وہ ناکام رہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ خفیہ معلومات افشا کرنے کا معاملہ اس حد تک سنگین ہو گیا تھا کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی ضروری تھی۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فضائیہ کے دفتر برائے خصوصی تحقیقات کی تفصیلی تفتیش کے بعد حساس معلومات کے تحفظ کے لیے ضروری انتظامی کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کو ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے محکمہ انصاف کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنرل سلویا پر ایران جنگ اور روس یوکرین جنگ سے متعلق خفیہ معلومات صحافیوں کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک امریکی دفاعی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ جنرل سلویا پینٹاگون میں صحافیوں کے داخلے سے متعلق نئی پابندیوں کے بعد عمارت سے باہر صحافیوں سے ملاقاتیں بھی کرتے رہے تاکہ انہیں معلومات فراہم کر سکیں۔
تاہم جنرل سلویا کے ایک ساتھی نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ وہ مسلسل خفیہ معلومات افشا کرنے کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں، اگرچہ انہوں نے صحافیوں سے رابطوں کا اعتراف کیا تھا۔
امریکی محکمہ انصاف کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ خفیہ معلومات کے ممکنہ افشا ہونے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ انصاف اس معاملے پر پینٹاگون سمیت دیگر حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔
یہ کارروائی پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے پینٹاگون میں خفیہ معلومات افشا کرنے کے واقعات روکنے کی وسیع مہم کا حصہ ہے۔
وزیر دفاع نے رواں برس جولائی میں پینٹاگون اور محکمہ انصاف کی مشترکہ ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد غیر مجاز طور پر میڈیا کو حساس معلومات فراہم کرنے والوں کی نشاندہی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ہے۔
اس سے قبل پینٹاگون نے صحافیوں کی رسائی اور میڈیا کوریج کے حوالے سے نئی پابندیاں بھی متعارف کرائی تھیں، جن پر صحافتی تنظیموں نے اعتراض کیا تھا۔ ان پابندیوں کے خلاف درجنوں صحافیوں نے اپنے پریس کارڈز واپس کر دیے تھے جبکہ بعض معاملات عدالتوں تک بھی پہنچے تھے۔
رواں برس اگست میں امریکی حکومت کے مالی تعاون سے چلنے والے خبر رساں ادارے اسٹارز اینڈ اسٹرائپس سے برطرف کیے گئے تین صحافیوں نے بھی پینٹاگون کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ صحافیوں کا مؤقف تھا کہ ان کی برطرفیاں غیر قانونی اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت حاصل آزادی اظہار کے حق کے خلاف ہیں۔
جنرل سلویا کی برطرفی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے خلاف امریکی جنگ جاری ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر نئے حملوں کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم پینٹاگون کے ایک اہلکار نے واضح کیا کہ جنرل سلویا ایران جنگ کی مرکزی منصوبہ بندی کے ذمہ دار نہیں تھے، بلکہ یہ ذمہ داری امریکی سینٹرل کمانڈ کے پاس ہے۔